Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

مستقبل پر نظر

Urdu book, p. 215

By Maulana Wahiduddin Khan

مذکورہ سہیل بن عمرو اس وقت تک اسلامی جماعت کے ایک فرد بن چکے تھے۔ وہ شاندار خطیب ہونے کے ساتھ ایک بارعب شخصیت والے آدمی تھے۔ جب انھوں نے مکہ کا یہ حال دیکھا تو وہ لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے۔ انھوں نے اعلیٰ خطیبہ صلاحیت کو استعمال کرتے ہوئے لوگوں کے درمیان ایک پرزور تقریر کی۔ انھوں نے کہا سن لو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات نے اس کے سوا کچھ اور نہیں کیا ہے کہ اس نے اسلام کی قوت میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ جو شخص ہمارے خلاف کچھ کرے گا، ہم تلوار سے اس کی گردن مار دیں گے۔ سہیل بن عمرو کی گرج دار تقریر کو سن کر لوگوں نے رجوع کر لیا۔ انہوں نے اسلام سے پھرنے کا جو ارادہ کیا تھا، اس سے باز آگئے۔ اس کے بعد عتاب بن اسید بھی روپوشی سے نکل آئے۔ راوی کہتے ہیں کہ یہی مطلب تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول کا کہ ہو سکتا ہے کہ ایک دن وہ ایسے مقام پر کھڑے ہوں جہاں وہ تمہارے نزدیک قابلِ مذمت نہ ہوں بلکہ قابلِ تعریف ہوں: اِنَّ ذٰلِکَ لَمْ يَزِدِ الْاِسْلَامَ إِلَّا قُوَّةً، فَمَنْ رَابَنَا ضَرَبْنَا عُنُقَهُ، فَتَرَاجَعَ النَّاسُ وَكَفُّوا عَمَّا هَمُّوا بِهِ، وَظَهَرَ عَتَّابُ بْنُ أَسِيدٍ۔ فَهٰذَا الْمَقَامُ الَّذِي أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صلی اللہ علیہ وسلم فِي قَوْلِهِ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: إِنَّهُ عَسَى أَنْ يَقُومَ مَقَامًا لَّا تُذَمُّہٗ (سیرت ابن ہشام، جلد 4، صفحہ 346)۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ سنت بتاتی ہے کہ آپ کی نظر حال پر نہیں رکتی تھی۔ آپ آدمی کے حال سے گزر کر اس کے مستقبل کے امکانات کو دیکھتے تھے۔ ایک انسان کا آج اگر باغیانہ ہے تو اس کو نظر انداز کر کے آپ یہ سوچتے تھے کہ ہو سکتا ہے کہ مستقبل میں وہ ہمارا وفادار ہو جائے۔ اور پھر اس کی وہ خدا دار صلاحیتیں جو اس وقت اسلام کے خلاف استعمال ہو رہی ہیں، وہ اسلام کی تائید میں استعمال ہونے لگیں: تاریخ بتاتی ہے کہ فی الواقع ایسا ہی پیش آیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page