اگلی نسلوں کا انتظار
Urdu book, p. 216
By Maulana Wahiduddin Khan
اگلی نسلوں کا انتظار اسلامی تاریخ میں 10 نبوی کا عام الحزن کہا جاتا ہے، کیونکہ اسی سال اولاً ابو طالب اور اس کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا انتقال ہو گیا۔ اب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مکہ کے حالات انتہائی حد تک غیر موافق ہو گئے۔ اس کے بعد آپ نے اسی سال مکہ سے طائف کا سفر کیا۔ یہ سفر اس امید میں تھا کہ شاید طائف میں آپ کے کام کے موافق حالات مل سکیں۔ مگر عملاً اس کے برعکس ہوا۔ طائف کے سرداروں (عبد یا لیل، مسعود، حبیب) نے آپ کے ساتھ بے حد گستاخی اور اہانت کا سلوک کیا۔ مزید یہ کہ انھوں نے شہر کے لڑکوں کو آپ کے پیچھے لگا دیا جو آپ کی ہنسی اڑائیں اور آپ پر پتھر برسائیں۔ آپ اس حال میں طائف سے واپس ہوئے کہ پتھروں کے مارے سے آپ کا جسم خوں آلود ہو گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار حضرت عائشہ سے فرمایا کہ میری زندگی کا سب سے سخت دن وہ ہے جو طائف کے سفر کے موقع پر گزرا۔ صحیح بخاری میں ہے کہ جب آپ طائف سے زخم خوردہ اور غم گین حالت میں واپسی لوٹ رہے تھے تو قرن ثعالب کے مقام پر حضرت جبریل آپ کے پاس آئے انھوں نے آپ کو آواز دے کر کہا کہ اللہ نے آپ کی قوم کے سلوک کو دیکھا۔ اب اللہ نے ملک الجبال (پہاڑوں کے فرشتہ) کو آپ کے پاس بھیجا ہے۔ آپ اہل طائف کے بارے میں جو کچھ چاہتے ہیں، اس کا انہیں حکم دیں۔ اس کے بعد ملک الجبال (پہاڑوں کا فرشتہ) سامنے آیا۔ اس نے آپ کو سلام کیا اور کہا اے محمد، اللہ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے۔ اللہ نے آپ کے خلاف آپ کی قوم کی بات سنی۔ میں پہاڑوں کا فرشتہ ہوں۔ اگر آپ کہیں تو میں ان دونوں پہاڑوں کا باہم ملا کر اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader