اگلی نسلوں کا انتظار
Urdu book, p. 217
By Maulana Wahiduddin Khan
کے درمیان طائف کی بستی کو پیس ڈالوں۔ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ ان کی نسلوں سے وہ انسان پیدا کرے گا جو ایک اللہ کی عبادت کرے اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرائے: أَرْجُو أَنْ يُخْرِجَ اللَّهُ مِنْ أَصْلَابِهِمْ مَنْ يَعْبُدُ اللَّهَ وَحْدَهُ، لَا يُشْرِكْ بِهِ شَيْئًا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3231، صحیح مسلم، حدیث نمبر 1795)۔ یہ واقعہ بتاتا ہے کہ اگر موجودہ نسل نہ مان رہی ہو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی اگلی نسلوں تک انتظار کرنے کے لیے تیار تھے۔ موجودہ لوگوں کی طرف سے توہین اور سرکشی کا تجربہ ہونے کے باوجود آپ اس امید میں انھیں ہلاک کرنا نہیں پسند کرتے تھے کہ شاید ان کی اولاد یا اولاد کی اولاد میں وہ انسان پیدا ہو جو خدا کی خدائی کا اعتراف کرے اور اس کے آگے اپنے آپ کو جھکا دے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ فتح مکہ کے بعد کے دور میں طائف کے تمام باشندے اسلام کے دائرے میں داخل ہو گئے۔ اس کے بعد انھوں نے اسلام کی راہ میں بڑے بڑے کارنامے انجام دیے۔ مثلاً ابو عبید مسعود ثقفی انہی اہل طائف کی اولاد تھے۔ وہ اس مسلم فوج کے قائد تھے جس نے حضرت عمر فاروق کی خلافت کے زمانہ میں ایران میں جہاد کیا۔ انھوں نے ہاتھیوں کی فوج کے مقابلہ میں غیر معمولی جانبازی دکھا کر ایرانی فوجوں کو اس قدر مرعوب کیا کہ انہوں نے جنگ کا حوصلہ کھو دیا۔ محمد بن القاسم ثقفی 711ء (95ھ) میں سندھ کے راستہ سے ہندوستان میں داخل ہوا۔ وہ ایک انتہائی عادل اور باصلاحیت سردار تھا۔ اس نے صرف دو سال کے عرصہ میں سندھ اور پنجاب میں اتنے بڑے پیمانے پر اسلام کی اشاعت کی کہ ایک پورا علاقہ اللہ کے دین کے سایہ میں آگیا۔ موجودہ پاکستان محمد علی جناح کی دین نہیں، بلکہ حقیقتاً وہ محمد بن القاسم ثقفی کی دین ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader