شتم رسول کا مسئلہ
Urdu book, p. 218
By Maulana Wahiduddin Khan
محمد بن القاسم اتنالائق اور شریف سردار تھا کہ جب وہ ہندوستان سے واپس ہوکر دمشق گیا تو، فتوح البلدان (صفحہ 424) کے بیان کے مطابق، اہل ہند اس کے لیے روئے اور اس کا مجسمہ بنا کر اس کی تعظیم و تقدس کی (فَبَکٰی أَهْلُ الْھِنْدِ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَصُوِّرُوهُ)۔ اسلام کا یہ قیمتی مجاہد اسی قبیلہ ثقیف سے تعلق رکھتا تھا جس کی بدترین گستاخی اور ایذا رسانی کورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کہہ کر معاف کر دیا تھا کہ میں امید رکھتا ہوں کہ ان کی اگلی نسل میں ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو اللہ کے عبادت گزار بنیں گے۔ قبیلہ ثقیف (اہل طائف) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گستاخی اور ایذا رسانی کا بدترین فعل کیا تھا۔ مزید یہ کہ ان کو سزا دینے کا معاملہ پوری طرح آپ کے قابو میں تھا، کیونکہ پہاڑوں کا فرشتہ (ملک الجبال) آپ کے حکم کے نفاذ کے لیے آپکا تھا۔ مگر آپ نے انہیں سزا دینے کے بجائے اس کو پسند کیا کہ ان کی نسلوں سے ایسے افراد نکلیں جو اسلام کے سپاہی بن کر اسلام کی تاریخ بنائیں۔ حالات بتاتے ہیں کہ فی الواقع ایسا ہی پیش آیا۔ اگر آپ طائف والوں کی گستاخی کی سزا دینے کے لیے ملک الجبال کو استعمال کرتے تو طائف آج صرف کھنڈروں کی داستان ہوتا، نہ کہ اسلام کے قلعہ کی تعمیر کی شاندار تاریخ۔ آج کا دشمن کل کا دوست رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی مخالفین میں سب سے برا کردار جس شخص نے ادا کیا، وہ مکہ کا عمرو بن ہشام ہے جو تاریخ میں ابو جہل کے نام سے مشہور ہے۔ ابو جہل کے لڑکے کا نام عکرمہ تھا۔ عکرمہ آج اصحاب رسول کی معزز فہرست میں شامل ہیں، مگر فتح مکہ سے پہلے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سخت مخالف تھے اور اس معاملہ میں پوری طرح اپنے باپ کے ساتھ تھے۔ گستاخی اور جارحیت کی کوئی قسم نہ تھی جو انھوں نے آپ کے خلاف اختیار

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader