Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

آج کا دشمن کل کا دوست

Urdu book, p. 219

By Maulana Wahiduddin Khan

نہ کی ہو۔ حتیٰ کہ اپنے باپ کی موت کے بعد بھی بدستور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سرگرم رہے۔ مثلاً غزوۂ احد میں مشرک فوج کے میمنہ کے سردار خالد بن ولید تھے، اور میسرہ کے سردار عکرمہ بن ابی جہل۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف عکرمہ کا جرم اتنا واضح تھا کہ فتح مکہ کے بعد وہ مکہ چھوڑ کر یمن کی طرف بھاگ گئے۔ کیونکہ انہیں یقین تھا کہ وہ ضرور قتل کر دیے جائیں گے۔ ان کی بیوی جو مسلمان ہو گئی تھیں، وہ یمن جا کر باصرار انہیں واپس لے آئیں۔ وہ انتہائی شرمساری کے ساتھ اپنا سر جھکائے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور پوچھا کہ کیا مجھے امان ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں، تم کو امان ہے۔ اس سلسلہ میں تفصیلی واقعات سیرت کی کتابوں میں آئے ہیں جس کا خلاصہ یہ ہے کہ آخر کار انہوں نے کلمہ شہادت ادا کر کے اسلام قبول کر لیا۔ عکرمہ جب یمن سے واپس ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ عکرمہ تمہارے پاس آ رہے ہیں۔ تم ان کے باپ (ابو جہل) کو برا نہ کہنا۔ کیونکہ مُردہ کو برا کہنا مردہ تک تو نہیں پہنچتا، البتہ وہ زندوں کو تکلیف دیتا ہے (يَأْتِيَكُمْ عِكْرِمَةُ بْنُ أَبِي جَهْلٍ مُؤْمِنًا مُهَاجِرًا، فَلَا تَسُبُّوا أَبَاهُ، فَإِنَّ سَبَّ الْمَيِّتِ يُؤْذِي الْحَيَّ وَلَا يَبْلُغُ الْمَيِّتَ ) - عکرمہ جب آپ کے پاس پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نہایت خوش ہو کر ان کی طرف تیزی سے بڑھے، حتیٰ کہ آپ کی چادر آپ کے اوپر سے گر پڑی (مغازی الواقدی، جلد، صفحہ (851-852_ اسلام قبول کرنے کے بعد عکرمہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میں آپ سے ایک چیز طلب کرنا چاہتا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ تم طلب کرو میں تمہیں ضرور وہ چیز دوں گا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page