اسلام مغربی لٹریچر میں
Urdu book, p. 22
By Maulana Wahiduddin Khan
نمونہ ہے۔ یہ سوانح عمری ایک صدی تک مغربی حلقوں میں مستند سمجھی جاتی تھی۔ زیادہ رواداری کا نقطۂ نظر اٹھار ہویں صدی میں پیدا ہوا۔ اس زمانہ میں مغرب کے عربی دانوں نے اسلام کے متعلق زیادہ قابل اعتماد ذرائع کا ترجمہ کیا۔ سیاح اور تاجر زیادہ اچھے تاثرات لے کر لوٹے اور سفیروں اور مشنری کے عہدیداروں نے بھی اضافہ معلومات میں حصہ لیا۔ مثال کے طور پر جارج سینڈ یز (George Sandys) جس نے قسطنطنیہ، مصر اور فلسطین کی زیارت کی تھی، وہ 1615ء میں اپنے سفر کی رو داد لکھتے ہوئے مسلمانوں کی بہت سی چیزوں کے ساتھ زکوٰۃ کی تعریف کرتا ہے جو عیسائیوں اور یہودى غرباء کو بھی دی جاتی تھی۔ تاہم زیادہ تر مثالوں میں لوگ ذاتی تحقیق سے زیادہ روایتی معلومات ہی پر اکتفا کرتے رہے۔ حتیٰ کہ متخصصین پروفیسروں تک کا یہ حال تھا کہ پیدائشی طور پر سنی سنائی روایات کو دہرادیا کرتے تھے۔ 1784 میں پکا ک کا جانشین جوزف وائٹ (Joseph White) اپنے مشہور "ہمپٹن لیکچرز (Bampton Lectures) میں مسیحیت کی حمایت کرتے ہوئے جب اسلام پر آیا تو محمد کے لیے اس کے پاس جو لفظ تھا وہی عام روایتی لفظ تھا یعنی مکار اور فریبی (imposter)۔ اسی طرح بعد کے ممتاز علماء مثلاً ولیم میور (اڈنبرا یونیورسٹی) ڈائیسا مارگولیتھ (آکسفرڈ) ہنری لامنز (بیروت یونیورسٹی) کے یہاں بھی قدیم رجحانات کے آثار ملتے ہیں۔ مقالہ نگاروں اور مورخوں کے ہاتھوں میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم، قرآن اور اسلام کا معاملہ اس سے بہتر رہا ہے جو پہلے مذہبی علماء ، ناول نگاروں اور شاعروں کے ہاتھوں میں اس کا حشر ہوا تھا۔ اس سلسلے میں پہلا قابل ذکر نام سائمن آکلے (Simon Ockley) کا ہے، وہ کیمبرج یونیورسٹی میں عربی کا پروفیسر تھا۔ اس نے مسلمانوں کی تاریخ پر دو جلدوں میں ایک کتاب لکھی ہے۔ اگر چہ کیمبرج کا یہ عالم بھی مکار (Imposter) کو محمد کے ہم لفظ کے طور پر استعمال کرتا ہے۔ اور اسلام اور تو ہمات اس کے یہاں مرادف الفاظ ہیں۔ مگر مخصوص تاریخی واقعات کے بیان میں اس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader