آج کا دشمن کل کا دوست
Urdu book, p. 220
By Maulana Wahiduddin Khan
(لَا تَسْأَلُنِي الْيَوْمَ شَيْئًا أُعْطِيهِ أَحَدًا إِلَّا أَعْطَيْتُهُ) _ عکرمہ نے کہا کہ میری آپ سے درخواست ہے کہ ہر دشمنی جو میں نے آپ کے ساتھ کی ہے، یا ہر رکاوٹ جو میں نے آپ کے راستہ میں ڈالی ہے، ہر وہ لڑائی جو میں نے آپ کے خلاف لڑی ہے، ہر وہ بدکلامی جو میں نے آپ کے منہ پر کی ہے یا آپ کے پس پشت کی ہے، ان سب کو معاف کر دیں اور ان کے بارے میں اللہ سے میرے لیے استغفار فرمائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوراً ہی ان کے حق میں یہ دعا فرمائی کہ اے اللہ ہر وہ عداوت جو عکرمہ نے میرے ساتھ کی ، ہر وہ سرگرمی جو انھوں نے اس ارادہ سے کی کہ تیرے نور کو بجھا دیں ، ان سب کو تو ان کے لیے معاف کر دے اور وہ سب کچھ جو انھوں نے میری بے آبروئی کے لیے کیا، خواہ میرے سامنے کیا ہو، یا میرے پس پشت، ان سب کو تو معاف کر دے ( مغازی الواقدی ، جلد ، صفحہ 852 ) ۔ اس کے بعد عکرمہ نے کہا کہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، خدا کی قسم ، ہر وہ خرچ جو میں اللہ کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے کیا کرتا تھا ، اب اس کا دگنا اللہ کے راستہ میں خرچ کروں گا۔ اور اللہ کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے جو جنگیں میں نے کیں ، اب اللہ کے راستہ میں اس سے دُگنا جنگ کروں گا۔ چنانچہ اس کے بعد عکرمہ اپنی جان اور اپنے مال کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ میں لگ گئے ۔ وہ برابر اسی میں لگے رہے ۔ یہاں تک کہ وہ یرموک کے معرکہ میں زبردست جانبازی دکھاتے ہوئے شہید ہو گئے ( مغازی الواقدی ، جلد ، صفحہ 853-852 ؛ الاستیعاب لابن عبدالبر، جلد 3، صفحہ 1085 ) ۔ عکرمہ نے گستاخی سے لے کر جارحیت تک ہر جرم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کیا تھا۔ بظاہر وہ اس قابل تھے کہ انہیں قتل کر دیا جائے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قاتل نہیں تھے ، داعی تھے۔ آپ نے عکرمہ کے ”آج“ میں چھپا ہوا ”کل“ دیکھ لیا تھا۔ یہی وہ داعیانہ نگاہ تھی، جس کی بنا پر آپ نے انہیں یک طرفہ معاف کر دیا۔ بعد کے واقعات نے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader