Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

شتم رسول کا مسئلہ

Urdu book, p. 221

By Maulana Wahiduddin Khan

بتایا کہ آپ کا اندازہ نہایت درست تھا۔ چنانچہ دشمنِ عکرمہ کے اندر سے ایک دوست عکرمہ برآمد ہوا۔ جو شخص اپنی ابتدائی زندگی میں کفر کا کھمبا بنا ہوا تھا، وہ اپنی بعد کی زندگی میں اسلام کا ستون بن گیا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد اوپر ان لوگوں کی مثال نقل کی گئی ہے جو قبولِ اسلام سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کے مرتکب ہوئے مگر انھیں سزا دینے کے بجائے ان کو معاف کر دیا گیا۔ اب کچھ ایسی مثالیں درج کی جاتی ہیں جب کہ آدمی نے اسلام قبول کرنے کے بعد آپ کی شان میں گستاخی کی اور آپ کو اذیت پہنچائی۔ اس کے باوجود اس مسلمان کو قتل کی سزا نہیں دی گئی۔ 1۔ ابن اسحاق کہتے ہیں کہ، مجھ سے ابو عبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر نے مقسم بن ابو القاسم مولی عبداللہ بن الحارث بن نوفل کی روایت بیان کی۔ انھوں نے کہا کہ میں اور تلید بن کلاب اللیثی دونوں نکلے، یہاں تک کہ ہم عبداللہ بن عمرو بن العاص کے پاس پہنچے۔ وہ اپنا جوتا ہاتھ میں لٹکائے ہوئے بیت اللہ کا طواف کر رہے تھے۔ ہم نے ان سے کہا۔ کیا آپ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے جب حنین کے دن تمیمی نے آپ سے بات کی تھی۔ انھوں نے کہا ہاں۔ بنو تمیم کا ایک شخص آپ کے پاس آیا۔ اس کو ذوالخویصرہ کہا جاتا تھا۔ وہ آپ کے پاس کھڑا ہو گیا۔ اس وقت آپ لوگوں کو مالِ غنیمت دے رہے تھے۔ (وہ دیکھتا رہا) یہاں تک کہ اس نے کہا کہ اے محمد! میں نے اس کو دیکھ لیا جو آپ نے آج کیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ٹھیک ہے، پھر تم نے کیا دیکھا۔ اس نے کہا میں نے نہیں دیکھا کہ آپ نے عدل کیا ہو (لَمْ أَرَكَ عَدَلْتَ)۔ عبداللہ بن عمرو بن العاص نے بیان کیا کہ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غضب ناک ہو گئے۔ آپ نے کہا تیرا برا ہو، اگر میرے پاس عدل نہیں ہوگا تو پھر کس کے پاس ہوگا (فَغَضِبَ رَسُولُ اللهِ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page