Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

اسلام قبول کرنے کے بعد

Urdu book, p. 222

By Maulana Wahiduddin Khan

صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: وَيْحَكَ، إِنْ لَمْ يَكُنِ الْعَدْلُ عِنْدِي، فَعِنْدَ مَنْ يَكُونُ)۔ حضرت عمر بن الخطاب نے یہ سن کر کہا اے خدا کے رسول، کیا میں اسے قتل نہ کر دوں۔ آپ نے کہا کہ نہیں، اس کو چھوڑ دو۔ عنقریب اس کی ایک جماعت ہوگی جو دین میں تعمق کرے گی، یہاں تک کہ وہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے کہ تیر شکار سے (مسند احمد، حدیث نمبر 7038)۔ مذکورہ مسلمان (ذوالخویصره) کے معاملہ پر غور کیجیے۔ اس نے خدا کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں جو گستاخی کی وہ سادہ معنوں میں صرف ایک لفظی گستاخی نہ تھی، وہ خود آپ کی حیثیت رسالت پر ضرب لگانے کے ہم معنی تھی۔ اس شخص نے آپ کی عدالت پر شبہ کیا تھا اور آپ کو اپنے خیال کے مطابق غیر عادل بتایا تھا۔ یہ بات انتہائی حد تک سنگین ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیثیت قرآن کے راوی کی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے بواسطہ جبریل خدا کا کلام پایا ہے۔ اور اس کو تمہارے سامنے پیش کر رہا ہوں۔ آپ کی اسی روایت پر یقین کر کے ہم قرآن کو خدا کی کتاب مانتے ہیں۔ یہ معلوم ہے کہ کسی روایت کو قبول کرنے کے لیے راوی کا عادل ہونا شرط لازم ہے۔ جس راوی کی عدالت مشتبہ ہو، اس کی روایت کبھی قبول نہیں کی جائے گی۔ ایسی حالت میں مذکورہ تمیمی مسلمان کا آپ کو غیر عادل بتانا گو یا آپ کے راوی قرآن ہونے کی حیثیت کو مشتبہ قرار دینا ہے۔ یہ بلاشبہ سب سے زیادہ سخت بات ہے جو آپ کے خلاف کہی جاسکتی ہے۔ مذکورہ شخص نے اتنی سنگین بات کہی، اس کے باوجود اس کو نہ کوئی سزا دی گئی اور نہ اس کو قتل کیا گیا۔ کیا اس کے بعد بھی اس میں شبہ کی کوئی گنجائش باقی رہتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی کے بجائے خود کوئی واجب القتل جرم نہیں ہے۔ کسی کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page