Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

اسلام قبول کرنے کے بعد

Urdu book, p. 223

By Maulana Wahiduddin Khan

واجب القتل ہونے کے لیے اسی کے ساتھ کچھ مزید اسباب درکار ہیں۔ مثلاً ریاستِ اسلامی سے بغاوت۔ چند افراد کو دوِراول میں قتل کیے گئے ہیں، ان کا معاملہ اسی دوسرے حکم کے تحت آتا ہے۔ انہیں ریاست سے بغاوت کے جرم میں قتل کیا گیا، نہ کہ مجرد گستاخیِ رسول کے جرم میں۔ 2۔ شعبان 6ھ میں وہ غزوہ پیش آیا جس کو تاریخ میں غزوہ بنی المصطلق کہا جاتا ہے۔ اس غزوہ کے لیے جو لشکر روانہ ہوا، اس میں عبد اللہ بن ابی اور دوسرے بہت سے منافق قسم کے مسلمان شریک تھے۔ یہ لوگ اپنی بے حسی اور بے خوفی کی بنا پر معمولی باتوں کو شوشہ بنا لیتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مخلص مسلمانوں کے خلاف فتنے برپا کرتے رہتے۔ اس سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ عائشہ بنت ابی بکر بھی آپ کے ساتھ تھیں۔ واپسی میں فوج نے ایک منزل پر پڑاؤ کیا۔ حضرت عائشہ حسب معمول رات کے آخری حصہ میں رفع حاجت کے لیے دور چلی گئیں۔ اس وقت ان کے گلے میں ایک معمولی قسم کا ہار تھا، وہ اتفاق سے ٹوٹ کر گر پڑا۔ حضرت عائشہ اس کو تلاش کرنے لگیں۔ اندھیرے کی وجہ سے اس میں بہت زیادہ دیر لگ گئی۔ حضرت عائشہ ابھی لوٹی نہیں تھیں کہ قافلہ روانہ ہو گیا۔ قاعدہ یہ تھا کہ کوچ کے وقت حضرت عائشہ اپنی ہودج میں بیٹھ جاتی تھیں جو چاروں طرف سے کپڑے سے ڈھکا ہوتا تھا، اور چار آدمی اس کو اٹھا کر اونٹ پر رکھ دیتے تھے۔ حضرت عائشہ اس وقت ایک چھوٹی اور دبلی خاتون تھیں۔ چنانچہ ہودج اٹھانے والوں کو یہ اندازہ نہ ہو سکا کہ اس میں کوئی سواری نہیں ہے۔ انھوں نے خالی ہودج کو اونٹ پر رکھ دیا اور اس کو لے کر روانہ ہو گئے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا واپس آئیں تو وہاں کوئی نہ تھا۔ بظاہر کوئی صورت نہ پا کر وہ وہیں چادر اوڑھ کر لیٹ گئیں۔ صبح کے وقت صفوان بن معطل سلمی وہاں آئے جو قافلہ کے پیچھے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page