خدائی حفاظت
Urdu book, p. 231
By Maulana Wahiduddin Khan
خدائی حفاظت قرآن میں بار بار مخالفوں کے تمسخر اور استہزاء کا ذکر ہے۔ مگر کہیں بھی یہ حکم نہیں دیا گیا کہ جب بھی کسی کو استہزاء کرتے ہوئے پاؤ تو فوراً اُس کو پکڑ کر قتل کر ڈالو۔ اس کے برعکس، قرآن کی تعلیم یہ ہے کہ تم اپنی ساری توجہ دعوت و تبلیغ کے کام پر مرتکز رکھو، اور استہزاء کرنے والوں کو سزا دینے کے معاملہ کو اللہ پر چھوڑ دو: فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ . إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ . الَّذِينَ يَجْعَلُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ فَسَوْفَ يَعْلَمُونَ . وَلَقَدْ نَعْلَمُ أَنَّكَ يَضِيقُ صَدْرُكَ بِمَا يَقُولُونَ . فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَكُنْ مِنَ السَّاجِدِينَ . وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ (15:94-99)۔ یعنی، پس جس چیز کا تم کو حکم ملا ہے اس کو کھول کر سنا دو۔ اور مشرکوں سے اعراض کرو۔ ہم تمہاری طرف سے ان کا مذاق اڑانے والوں کے لیے کافی ہیں۔ جو اللہ کے ساتھ دوسرے معبودوں کو شریک کرتے ہیں۔ پس عنقریب وہ جان لیں گے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ جو کچھ وہ کہتے ہیں اس سے تمہارا دل تنگ ہوتا ہے۔ پس تم اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تبیح کرو۔ اور سجدہ کرنے والوں میں سے بنو۔ اور اپنے رب کی عبادت کرو۔ یہاں تک کہ تمہارے پاس یقینی بات آ جائے۔ ان آیات کے تحت مفسرین نے جو لکھا ہے، اس کا خلاصہ، ابن کثیر کے الفاظ میں، یہ ہے کہ تمہارے رب کی طرف سے جو کچھ تمہارے اوپر اتارا گیا ہے، اس کو لوگوں تک پہنچادو۔ اور مشرکین کی طرف متوجہ نہ ہو جو تم کو آیاتِ الہیٰ کی تبلیغ سے روک دینا چاہتے ہیں۔ تم ان سے نہ ڈرو۔ کیونکہ اللہ ان کی طرف سے تمہارے لیے کافی ہے۔ اور تم کو ان سے محفوظ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader