Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

خدائی حفاظت

Urdu book, p. 232

By Maulana Wahiduddin Khan

رکھنے والا ہے: بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ، وَلَا تَلْتَفِتْ إِلَى الْمُشْرِكِينَ الَّذِينَ يُرِيدُونَ أَنْ يَصُدُّوكَ عَنْ آيَاتِ اللَّهِ وَدُوُا لَوْ تُدْهِنُ فَيُدْهِنُونَ وَلَا تَخَفْهُمْ فَإِنَّ اللَّهَ كَافِيكَ إِيَّاهُمْ وَحَافِظُكَ مِنْهُمْ (تفسیر ابن کثیر، جلد 4، صفحہ 473)۔ قرآن سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کے معاملات میں داعی کا طریقہ اعراض ہے، نہ کہ جواب اور مقابلہ۔ داعی کو چاہیے کہ وہ اپنی ساری توجہ صرف پیغام رسانی کے کام پر لگائے رہے۔ مدعو کی طرف سے استہزاء اور ایذا رسانی کا ردِ عمل سامنے آئے تو ہرگز وہ اس سے براہِ راست نہ الجھے۔ وہ ایسے لوگوں کا معاملہ کو تمام تر اللہ کے اوپر چھوڑ دے۔ قرآن کے مطابق ، دعوت دینا داعی کا کام ہے اور مستہزئین سے نمٹنا اللہ کا کام۔ قرآن کی مذکورہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول سے فرمایا ہے کہ مستہزئین کے مقابلہ میں ہم تمہاری طرف سے کافی ہیں: إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ (15:95)۔ اس خدائی ضمانت کا کوئی وقتی یا محدود مطلب نہیں لیا جا سکتا۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک ابدی پیغمبر تھے، اس لیے ضمانت کا یہ وعدہ بھی ابدی وعدہ ہے۔ یعنی اس کا تعلق اسلام کے زمانۂ اول سے بھی ہے جب کہ آپ اپنے وجودِ مقدس کے ساتھ دنیا میں موجود تھے۔ اور بعد کے زمانہ سے بھی جب کہ آپ اپنے پیغامِ حق کے ساتھ دنیا میں موجود ہیں۔ اور اہلِ عالم کو مسلسل اپنی دعوت پہنچا رہے ہیں۔ استہزاء کرنے والا کسی کا استہزاء کیوں کرتا ہے ۔ وہ اس لیے ایسا کرتا ہے کہ زیرِ استہزاء شخصیت لوگوں کی نظر میں حقیر ہو کر رہ جائے۔ وہ لوگوں کو اس قابل نظر نہ آئے وہ اس کو اہمیت دیں اور اس کے پیغام پر غور کریں۔ یہی مقصد قدیم زمانہ میں پیغمبر کے مستہزئین کا تھا۔ اور یہی بعد کے زمانہ کے مستہزئین کا ہے۔ اس اعتبار سے استہزاء کا جواب یہ نہیں ہے کہ مستہزی شخص کو قتل کر دیا جائے ۔ اس کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page