Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

خدائی حفاظت

Urdu book, p. 233

By Maulana Wahiduddin Khan

زیادہ حقیقی اور زیادہ کارگر جواب یہ ہے کہ جس شخصیت کا استہزاء کیا جا رہا ہے، اس کو اتنا بلند اور اتنا مسلّم الثبوت بنا دیا جائے کہ استہزاء کرنے والوں کا استہزاء اس پر اثر انداز ہی نہ ہو۔ اگر کوئی شخص ہمالیہ پہاڑ کو ایک چھوٹا ٹیلہ کہہ کر مذاق اڑائے تو یہ مذاق اس کے اوپر چسپاں نہیں ہوگا۔ کیونکہ ہمالیہ کی غیر معمولی عظمت خود ہی اس مذاق کی تردید ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص ہاتھی کو چیونٹی کہہ کر اس کی ہنسی اڑائے تو یہ ہنسی بھی ہاتھی کے اوپر چسپاں نہ ہو گی۔ کیونکہ ہاتھی کا غیر معمولی ڈیل ڈول اپنے آپ اس ہنسی کو بے معنی ثابت کر رہا ہے، اس قسم کا تمسخر اتنا بے معنی ہے کہ اس کی تردید کرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ اپنی تردید آپ ہے۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اسی قسم کا معاملہ زیادہ بڑے پیمانے پر کیا گیا ہے۔ آپ کے ساتھ ایسے غیر معمولی نوعیت کے تاریخی حالات جمع کیے گئے ہیں کہ آپ کی شخصی عظمت عالمی سطح پر ایک مسلّمۂ واقعہ بن چکی ہے۔ آپ اب کوئی متنازعہ شخصیت نہیں ہیں۔ بلکہ ایک ایسی شخصیت ہیں جس کی بڑائی کا اعتراف کرنے پر ہر آدمی مجبور ہو، خواہ وہ آپ پر عقیدہ رکھتا ہو یا عقیدہ نہ رکھتا ہو۔ چنانچہ موجودہ زمانہ میں غیر مسلم مصنفین نے کثرت سے ایسی کتابیں لکھی ہیں جن میں آپ کی غیر معمولی عظمت کا اعتراف کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر ٹامس کارلائل نے آپ کو تمام پیغمبروں کا ہیرویوں قرار دیا ہے۔ مائیکل ہارٹ نے دنیا کے سو بڑے انسانوں کی فہرست بنائی تو اس میں آپ کو نمبر ایک پر رکھا (دیکھیے، زیر نظر کتاب کا صفحہ 52)۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایسے مقام عظمت پر فائز کر دیا ہے کہ اب کسی مستہزی کا استہزاء خود مستہزی کو لو گوں کی نظر میں حقیر بنا دے، اس کا استہزاء کسی بھی درجہ میں آپ کے اوپر چسپاں نہ ہو۔ اس فیصلہ الہی کی پیشگی خبر خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو دیدی تھی۔ روایات میں آتا ہے کہ مکہ کے قریش آپ کو مذمم (مذمت کیا ہوا، ملامت زدہ) کہتے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page