Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

شتم رسول کا مسئلہ

Urdu book, p. 234

By Maulana Wahiduddin Khan

تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خلاف کوئی براہ راست کارروائی نہیں کی۔ اس کے بجائے آپ نے فرمایا کہ قریش کی اس ایذارسانی پر مجھے تعجب ہے۔ وہ مجھے گالی دیتے ہیں اور مجھ کو مذمم کہتے ہیں۔ حالانکہ میں محمد ہوں: أَلاَ تَعْجَبُونَ لِمَا يَصْرِفُ اللَّهُ عَنِّي مِنْ أَذَىٰ قُرَيْشٍ، يَسُبُّونَ وَيَنْهَجُونَ مُذَمَّمًا، وَأَنَا مُحَمَّدٌ (سیرت ابن ہشام، جلد 1، صفحہ 356)۔ یعنی کائنات ارض و سماء کے مالک نے میرے لیے مقدر کر دیا ہے کہ عالمی تاریخ میں مجھ کو محمد (تعریف کیا ہوا) کی حیثیت سے جگہ ملے۔ ایسی حالت میں ان کے جھوٹے سب وشتم کی کیا حقیقت ۔ اسی خدائی ضمانت کا یہ کرشمہ ہے کہ سلمان رشدی کی کتاب کی اعلیٰ طباعت اور اس کی زبردست پبلسٹی کے باوجود ساری دنیا میں کوئی ایک شخص نہیں جو اس بے ہودہ کتاب کو پڑھ کر متاثر ہوا ہو یا اس کی رائے پیغمبر اسلام کے بارے میں خراب ہو جائے۔ اس کتاب کی اشاعت کے بعد عالمی اخبارات میں قارئین کے بے شمار خطوط چھپے ہیں۔ مگر کسی ایک شخص نے یہ بات نہیں لکھی کہ اس کتاب نے میری نظر میں پیغمبر اسلام کی تصویر بگاڑ دی۔ میری نگاہ میں ان کا جو تقدس پہلے تھا، وہ اس کتاب کو پڑھنے کے بعد باقی نہ رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کتاب نے خود مصنف کی تصویر کو بگاڑا ہے، نہ کہ پیغمبر اسلام کی تصویر کو۔ اصل ذمہ داری سے غفلت مذکورہ آیت (الحجر، 15:94) اور اسی طرح کی دوسری قرآنی آیتوں سے واضح ہے کہ مسلمانوں کی اصل ذمہ داری یہ ہے کہ وہ پیغمبر کی لائی ہوئی تعلیمات کو لوگوں کے سامنے پیش کریں، نہ یہ کہ پیغمبر کے خلاف گستاخی کرنے والوں سے لڑائی لڑتے رہیں۔ پہلا کام اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے ذمہ کیا ہے، اور دوسرا کام اللہ تعالیٰ نے خود اپنے ذمہ لیا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ جس کام کو اللہ تعالیٰ نے زیادہ مؤثر طور پر خود

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page