Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

اصل ذمہ داری سے غفلت

Urdu book, p. 235

By Maulana Wahiduddin Khan

اپنے ذمہ لے رکھا ہے، اس کے لیے وہ بے فائدہ طور پر شور و غل کرتے ہیں۔ اور جس کام کو اللہ نے خود ان کے ذمہ کیا ہے اس کے لیے وہ متحرک نہیں ہوتے۔ اس نوعیت کی سرگرمی خدا کے مقابلہ میں سرکشی ہے، نہ کہ خدا کے حکم کی تعمیل۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان پیغمبر اسلام کے دین کی اشاعت کے لیے تو کچھ نہیں کرتے، البتہ اگر کوئی معاند ایک لغو بیان دے یا ایک مخالفانہ تحریر چھاپے تو اس کے خلاف شور و غل کرنے میں وہ نہایت تیزی دکھاتے ہیں۔ یہ واقعہ مسلمانوں کی ایک بہت بڑی کو تاہی کو بتا رہا ہے۔ اس کا مطلب، دوسرے لفظوں میں، یہ ہے کہ مسلمان وہ کام کرنے کے لیے تو بہت بے قرار ہیں جس کا اہتمام خدا نے خود اپنی طرف سے رکھا ہے۔ مگر اس کام کو کرنے کے لیے ان کے اندر کوئی تڑپ موجود نہیں جو شریعت کے مطابق انہیں اپنی کوششوں کے ذریعہ انجام دینا ہے۔ قرآن کے مطابق مسلمانوں کے اوپر فرض ہے کہ وہ اپنے پیغمبر کی نصرت کریں۔ مگر نصرت سے مراد دعوت ہے، نہ کہ دوسروں کے خلاف شور و غل۔ مسلمانوں کو جاننا چاہیے کہ پیغمبر آخر الزماں پر طعن کرنے والوں کے خلاف شور و غل کر کے انھیں پیغمبر آخر الزماں کی نصرت کا کریڈٹ نہیں مل سکتا۔ یہ کریڈٹ انھیں صرف اس وقت ملے گا جب کہ وہ پیغمبر آخر الزماں کے پیغام کی اشاعت کے لیے اٹھیں اور اس کو اس کے تمام ضروری آداب و شرائط کے ساتھ ساری قوموں کے سامنے انجام دیں۔ مسلمانوں کی موجودہ روش کیوں ہے، اس کا نہایت گہرا نفسیاتی سبب ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان، مختلف اسباب سے، دوسری قوموں کے بارے میں نفرت کی نفسیات میں مبتلا ہیں۔ ان کے بارے میں وہ محبت اور خیر خواہی کا جذبہ نہیں رکھتے۔ یہی وجہ ہے کہ دوسری قوموں کے خلاف بھڑکنے کا موقع ہو تو وہ فوراً بھڑک اٹھتے ہیں۔ اس کے برعکس دوسری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page