Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

شتم رسول کا مسئلہ

Urdu book, p. 236

By Maulana Wahiduddin Khan

قوموں کے ساتھ ہمدردی و خیر خواہی کی بات ہو تو اس کے لیے وہ متحرک نہیں ہوتے۔ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی“ کے مسئلہ پر اٹھنے کے لیے صرف نفرت کا جذبہ کافی ہے، جو مسلمانوں کے اندر کافی مقدار میں موجود ہے۔ اس کے برعکس ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کی اشاعت“ کے لیے محبت کا جذبہ درکار ہے جو آج کے مسلمانوں کے اندر موجود نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پہلے سوال پر تیزی سے حرکت میں آجاتے ہیں اور دوسرے سوالوں پر وہ حرکت میں نہیں آتے، خواہ اس کے لیے انھیں کتنا ہی زیادہ پکارا جائے۔ یہ صورت حال حد درجہ تشویشناک ہے۔ مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی اس روش پر نظرثانی کریں، یہ روش یقینی طور پر خدا کے نقشہ کے مطابق نہیں۔ پہلا کام اتمام حجت مسلمانوں کا پہلا کام دوسروں کو سزا دینا نہیں ہے، ان کا پہلا کام دعوت دینا ہے اور اس کو اس کے تمام آداب وشرائط کے ساتھ جاری رکھتے ہوئے اتمام حجت تک پہنچانا ہے۔ اور شرائطِ دعوت میں سب سے اہم شرط یہ ہے کہ مدعو کی ہرزہ سرائی اور گستاخی کو اس وقت تک یک طرفہ طور پر برداشت کیا جائے جب تک اس کی ہدایت کے بارے میں آخری مایوسی کا مرحلہ نہ آجائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض افراد کو سزائیں بھی دی ہیں۔ مگر اس سلسلہ میں جن واقعات کا حوالہ دیا جاتا ہے، ان تمام واقعات میں سببِ قتل یا تو نقض عہد تھا یا انکارِ رسالت بعد از اتمام حجت۔ سادہ طور پر محض شتم کی بنا پر کسی ایک شخص کو بھی رسول یا اصحابِ رسول نے کبھی قتل نہیں کیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page