شتم رسول کا مسئلہ
Urdu book, p. 237
By Maulana Wahiduddin Khan
شتم رسول کا مسئلہ عام طور پر مسلمانوں کا یہ خیال ہے کہ شتم رسول کی سزا اسلامی شریعت میں قتل ہے۔ اگر ان لوگوں سے اس کا حوالہ طلب کیجیے اور یہ پوچھیے کہ اس کا ثبوت کیا ہے، تو وہ فوراً فقہ کا حوالہ دیں گے۔ وہ کہیں گے کہ اسلامی فقہ میں متفقہ طور پر یہ حکم بتایا گیا ہے کہ شتم رسول کا ارکاب کرنے والے شخص کو بطور حد قتل کیا جائے گا (یقتل حداً) ۔ اس قسم کا حوالہ اپنے آپ میں ایک بے بنیاد حوالہ ہے۔ کیوں کہ حد کا قانون (capital punishment) کی حیثیت رکھتا ہے، اور اس قسم کا قانون براہ راست طور پر، قرآن اور حدیث سے نکلے گا، نہ کہ بعد کو بنائی جانے والی فقہ سے۔ یہ ایک مسلّم بات ہے کہ اسلام میں مستند ماخذ (authentic source) کی حیثیت صرف قرآن اور حدیث کو حاصل ہے، کوئی تیسرا ماخذ اس معاملے میں مستند ماخذ نہیں۔ جہاں تک فقہ کا تعلق ہے، فقہ، علماء کے قیاس اور استنباط پر مبنی ہے، اور علماء کا قیاس اور استنباط اپنے آپ میں کسی قانون کا مستند ماخذ نہیں بن سکتا۔ فقہ کی کتابوں میں شتم رسول کے مسئلے پر بحثیں موجود ہیں۔ اس کے علاوہ، اس موضوع پر مستقل کتابیں بھی لکھی گئی ہیں۔ اُن میں سے چند کتابوں کے نام یہ ہیں: 1۔ تقی الدین احمد بن تیمیہ (وفات 1328ء): الصارم المسلول علی شاتم الرسول 2۔ تقی الدین ابو الحسن علی السکی (وفات 1355 ء): السیف المسلول علی مَن سب الرسول 3۔ ابن عابدین الشامی (وفات 1836ء): تنبیہ الولاۃ والحکام علی أحکام شاتم خیر الأنام وأحد أصحابه الكرام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader