شتم رسول کا مسئلہ
Urdu book, p. 238
By Maulana Wahiduddin Khan
شاتم رسول کی سزا کے معاملے میں عام طور پر مسلمان بہت زیادہ حساس ہیں، لیکن اس موضوع پر جو کتابیں لکھی گئی ہیں، اُن میں کوئی حقیقی حوالہ موجود نہیں۔ اس سلسلے میں پہلا سوال یہ ہے کہ قرآن کی وہ کون سی آیت ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ شاتم رسول کو قتل کر دو۔ جیسا کہ معلوم ہے، قرآن میں ایک سو چودہ سورتیں ہیں، اور آیتوں کی تعداد چھ ہزار سے زیادہ ہے۔ مگر کسی بھی سورہ، یا کسی بھی آیت میں یہ حکم بیان نہیں کیا گیا ہے کہ۔ جو شخص رسول کو شتم کرے، اس کو قتل کر دو۔ اس نظریے کے حامی، قرآن کی کچھ آیتیں پیش کرتے ہیں، مگر وہ اس مسئلے سے مکمل طور پر غیر متعلق ہیں۔ مثال کے طور پر ابن تیمیہ نے اپنی کتاب "الصارم المسلول علی شاتم الرسول، میں کچھ قرآنی آیتیں پیش کی ہیں۔ اُن میں سے ایک آیت یہ ہے: اَلَّذِيْنَ يُؤْذُونَ رَسُوْلَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ (61:9) ۔ یعنی جو لوگ خدا کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں، اُن کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ قرآن کی اس آیت میں جس درد ناک سزا (عَذَابٌ أَلِيمٌ) کا ذکر ہے، اُس سے مراد یقینی طور پر آخرت کی سزا ہے، نہ کہ موجودہ دنیا کی سزا۔ یہ ایک انتہائی غیر علمی طریقہ ہے کہ دنیا کے قتل، اور آخرت کی سزا میں فرق نہ کیا جائے۔ دنیا کی سزا انسانی عدالت کے ذریعے دی جاتی ہے، لیکن آخرت کی سزا براہ راست خدائی فیصلے کے تحت ہوگی۔ دونوں سزاؤں کی نوعیت ایک دوسرے سے مکمل طور پر مختلف ہے۔ یہ ایک سراسر غیر علمی استدلال ہے کہ آخرت کی سزا والی ایک آیت لی جائے اور اُس سے دنیوی سزا کا حکم نکالا جائے۔ اسلامی شریعت کا دوسرا مصدر (source) سنت رسول ہے۔ مگر جو لوگ شاتم رسول کے لیے قتل کا حکم بیان کرتے ہیں، وہ پورے ذخیرہ حدیث سے کوئی ایک حدیث بھی اس کی تائید میں پیش نہ کر سکے۔ یہ مسئلہ اُس وقت ثابت ہوگا، جب کہ حدیث کے ذخیرے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader