شتم رسول کا مسئلہ
Urdu book, p. 239
By Maulana Wahiduddin Khan
میں کوئی ایسی روایت ہو جس میں اس قسم کے الفاظ موجود ہوں: من شتم رسولکم فاقٹلوہ (جو تمھارے رسول کی شتم کرے اس کو تم لوگ قتل کردو)۔ مگر یقین کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ اس قسم کی کوئی روایت، حدیث کے پورے ذخیرے میں موجود نہیں، اور نہ اب تک کسی نے ایسی کوئی مستند حدیث پیش کی۔ ابن تیمیہ حدیث کے ایک بڑے عالم تھے۔ ان کے بارے میں امام محمد بن احمد الذہبی (وفات 1348 ء) نے کہا ہے: کلِ حدیثِ لا یعرفہ ابنِ تیمیۃ فلیسِ بِحَدِیْث (شذرات الذہب لابن العماد الحنبلی، جلد 8، صفحہ 145)۔ یعنی کوئی حدیث جس کو ابن تیمیہ نہ جانتے ہوں، وہ حدیث ہی نہیں۔ مگر ابن تیمیہ اس پہلو سے کوئی مستند حدیث پیش کرنے سے عاجز ثابت ہوئے ہیں۔ حدیث کے نام سے، انھوں نے اپنی کتاب میں صرف ایک قول نقل کیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: "من سبّ نبیاً فاقٹلوہ" (صفحہ 92)۔ یعنی جو شخص کسی نبی کو شتم کرے، اُس کو قتل کردو۔ اس مفروضہ حدیث کے بارے میں خود ابن تیمیہ نے اپنی کتاب میں یہ الفاظ لکھے ہیں: "فَإِنْ كَانَ مَحْفُوظاً، فَهُوَ دَلِيلٌ عَلَى وُجُوبِ قَتْلِ مَنْ سَبَّ نَبِيّاً مِنَ الْأَنْبِيَاءِ" (صفحہ 93)۔ یعنی اگر اس حدیث کی صحت ثابت ہوجائے، تو وہ اس بات کے وجوب کی دلیل ہوگی کہ نبیوں میں سے کسی نبی کے شاتم کو قتل کیا جائے۔ مذکورہ کتاب کے مصنف ابن تیمیہ کی وفات 1328 عیسوی میں ہوئی تھی۔ زیرِ نظر مضمون لکھے جانے کے وقت اس کتاب کی اشاعت پر تقریباً سات سو سال گزر چکے ہیں۔ مگر اب تک کسی عالم نے یہ نہیں بتایا کہ اس حدیث کا م اخذ کیا ہے، اور استناد کے اعتبار سے اس کا درجہ کیا ہے۔ ایسی حالت میں یقینی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ یہ حدیث ایک موضوع حدیث ہے، اور موضوع حدیث سے کوئی بات ثابت نہیں ہوتی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader