شتم رسول کا مسئلہ
Urdu book, p. 240
By Maulana Wahiduddin Khan
اوپَرَ کی وضاحت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ قرآن اور حدیث میں کہیں یہ مسئلہ موجود نہیں ہے کہ جو شخص تمھارے پیغمبر کا شتم کرے، اس کو قتل کردو۔ قرآن اور حدیث کا پورا ذخیرہ اِس قسم کے کسی حکم سے خالی ہے۔ اب یہ سوال ہے کہ جب اُس قسم کا کوئی واقعہ پیش آئے جس کو مسلمان اپنی زبان میں ”شتمِ رسول“ کہتے ہیں، تو ایسی حالت میں مسلمانوں کا ردِّ عمل کیا ہونا چاہیے ۔ اِس کا جواب یہ ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ایسے کسی واقعے کو فکری چیلنج کے طور پر لیں، اور فکری سطح پر اِس کا جواب دیں۔ اسلام میں قصاص (البقرہ، 2:179) کا اصول ہے۔ اِس کے مطابق، یہ ہونا چاہیے کہ قول کا جواب قول سے دیا جائے، قلم کا جواب قلم سے دیا جائے، اور کتاب کا جواب کتاب سے دیا جائے ۔ یہ بات پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے اُسوہ سے واضح طور پر معلوم ہوتی ہے۔ مثلاً روایت میں آیا ہے کہ ایک مشرک قبیلے کا شعر مدینہ میں پیغمبر اسلام کے پاس آیا۔ اُس نے اپنے موقف کو اشعار کی زبان میں بیان کیا۔ واضح ہو کہ پریس کے دور سے پہلے شعر کا اسلوب اِس طرح کے معاملات میں رائج تھا۔ گویا شاعری کی حیثیت اُس وقت کے واحد میڈیا کی تھی۔ روایت میں آتا ہے کہ اِس وقت، پیغمبر اسلام نے ایک قاصد کو بھیج کر حسان بن ثابت الانصاری (وفات: 674ء) کو بلایا۔ جب وہ آگئے تو آپ نے حسان بن ثابت سے کہا: ”قُمْ يا حسان، فَأجِبِ الرَّجُلَ فِيمَا قال“ (سیرت ابن ہشام، جلد 4، صفحہ 227)۔ یعنی اے حسان اٹھو، اور اِس آدمی کا جواب دو جو اُس نے کہا ہے۔ اِس کے بعد حسان بن ثابت کھڑے ہوئے اور آنے والے شاعر کا جواب شعر کی زبان میں دیا۔ اِس طرح کے متعدد واقعات پیغمبر اسلام کے زمانے میں ملتے ہیں۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اسلام، یا پیغمبر اسلام کے خلاف کچھ کہے، تو اس کا جواب برابر کی سطح پر دیا جائے گا، یعنی قول کا جواب قول سے، اور قلم کا جواب قلم سے۔ اِس سے معلوم ہوا کہ قلم کا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader