Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

شتم رسول کا مسئلہ

Urdu book, p. 241

By Maulana Wahiduddin Khan

جواب تلوار سے دینا، اسلام کا طریقہ نہیں۔ اس طرح کا کوئی واقعہ اہل اسلام کے لیے صرف ایک فکری چیلنج ہے، وہ کوئی جنگی چیلنج نہیں۔ ایسے موقع پر فریقِ مخالف سے بات کر کے اس کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ پرامن انداز میں اس کا جواب فراہم کیا جائے گا۔ عقل کو مطمئن کرنے والا طریقہ اختیار کرتے ہوئے، اس کا مقابلہ کیا جائے گا۔ اس طرح کے موقع پر کسی بھی حال میں تشدد کا کوئی جواز نہیں۔ Conclusion اوپر جو بحث کی گئی، اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اسلام مکمل طور پر ایک امن پسند مذہب ہے، حتی کہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ تاریخ میں اسلام پہلا ریلیجس سسٹم تھا جس نے امن کی ایک مکمل آئیڈیالوجی پیش کی، اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اختیار کرتے ہوئے حقیقی معنوں میں ایک پرامن انقلاب برپا کیا۔ اس معاملے میں اسلامی تعلیمات کا خلاصہ ایک واقعے سے معلوم ہوتا ہے۔ پیغمبرِ اسلام نے اپنے ساتھیوں سے کہا: قَدِمْتُمْ خَيْرَ مَقْدَمِ مِنَ الْجِهَادِ الْأَصْغَرِ إِلَى الْجِهَادِ الْأَكْبَرِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ الْأَكْبَرُ؟ قَالَ: مُجَاهَدَةُ الْعَبْدِ هَوَاهُ (الزہد الکبیر للبیہقی ، حدیث نمبر 373)۔ یعنی تمھارا استقبال ہے چھوٹے جہاد سے بڑے جہاد کی طرف۔ لوگوں نے کہا: بڑا جہاد کیا ہے، آپ نے کہا: بندے کا اپنی نفسانی خواہش سے جہاد کرنا۔ جہاد اکبر اور جہادِ اصغر سے کیا مراد ہے۔ جہادِ اصغر سے مراد ہے عارضی جہاد (temporary jihad) اور جہادِ اکبر سے مستقل جہاد (permanent jihad) مراد ہے۔ مستقل جہاد وہ ہے جو مومن کی زندگی میں ہر روز جاری رہتا ہے۔ موجودہ امتحان کی دنیا میں مومن کو با اصول طریقِ زندگی پر قائم رہنا ہے۔ کسی بھی قسم کے ٹمپٹیشن (temptation) اور پروووکیشن (provocation) سے اپنے آپ کو بچاتے ہوئے، اسلام کے اصولوں پر قائم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page