شتم رسول کا مسئلہ
Urdu book, p. 242
By Maulana Wahiduddin Khan
رہنا، یہ ایک مسلسل عمل ہے، اِس لیے اِس کو جہادِ اکبر کہا گیا۔ جہاں تک جہادِ اصغر کا تعلق ہے، وہ دراصل دفاعی جہاد کا دوسرا نام ہے۔ دفاعی جہاد استثنائی طور پر کبھی اتفاقاً پیش آتا ہے، وہ اسلامی زندگی کا کوئی مستقل حصہ نہیں۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل کا زمانہ ہے۔ آپ کی نبوت کا آغاز 12 فروری 610 عیسوی کو مکہ میں ہوا، اور 8 جون 632 عیسوی کو مدینہ میں آپ کی وفات ہوئی۔ اِس اعتبار سے آپ کی پیغمبرانہ مدت مسیحی کیلنڈر کے مطابق، 22 سال تین مہینہ ہوتی ہے۔ اِس پوری مدت میں صرف چار لڑائیاں پیش آئیں ــ غزوہ بدر (2 ہجری)، غزوہ اُحد (3 ہجری)، غزوہ خیبر (7 ہجری)، غزوہ حنین (8 ہجری) ۔ اِن چاروں مواقع پر جو لڑائیاں ہوئیں، اُن میں سے ہر لڑائی صرف آدھے دن تک جاری رہی، یعنی مجموعی طور پر یہ لڑائیاں صرف دو دن کی تھیں۔ دن کے حساب سے اگر شمار کیا جائے، تو پیغمبر اسلام کی نبوت کے کل ایام تقریباً آٹھ ہزار ایک سو تیس (8130) ہوتے ہیں۔ اِس لمبی مدت میں پیغمبر اور آپ کے صحابہ آٹھ ہزار ایک سو اٹھائیس دن تک پُر امن جدوجہد میں مشغول رہے، اور صرف دو دن بطور دفاع مسلح جد و جہد میں حصہ لیا۔ اِس بنا پر یہ کہنا صحیح ہوگا کہ: "In Islam, peace is the rule, and war is a rare exception."

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader