Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

ڈائری سے انتخاب

Urdu book, p. 244

By Maulana Wahiduddin Khan

ایران کے امام خمینی نے اعلان کیا ہے کہ ”سیٹینگ ورسز“ کے مصنف سلمان رشدی کو قتل کردے اس کو ایک بڑا انعام دیا جائے گا۔ سلمان رشدی انگلینڈ کے شہری ہیں۔ خمینی کے اس اعلان کے بعد ہر طرف کھلبلی مچ گئی۔ آخر کار 19 فروری کو یہ خبر آئی کہ سلمان رشدی نے اپنی مذکورہ نزاعی کتاب پر معافی مانگ لی ہے۔ اگرچہ ایرانی حکومت نے اس کے بعد بھی اس کی جان بخشی نہیں کی۔ اس خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے مسٹر آرن شرما (دہلی کے ایک انگلش جرنلسٹ) نے کہا کہ خمینی نے اس بات کو یقینی بتا دیا کہ اب صدیوں تک یہ کتاب چھپتی رہے: "Khomaini has ensured reprint of Satanic Verses for centuries to come." ٹائمز آف انڈیا (21 فروری 1989) میں صفحہ آخر پر ایک رپورٹ ہے جس میں سلمان رشدی کی کتاب پر مختلف لوگوں کے تبصرے نقل کئے گئے ہیں۔ خوشونت سنگھ نے کہا کہ ناول کی حیثیت سے بھی شیطانی آیات کوئی پڑھنے کے قابل کتاب نہیں۔ مسلمان اگر اس کے خلاف شور و غل نہ کرتے تو یہ کتاب اپنے آپ ختم ہو جاتی۔ مگر انھوں نے شور و غل کر کے غیر ضروری طور پر اس کتاب کو زندگی دے دی۔ 23 فروری 1989 آج کل ساری دنیا کے مسلمان سلمان رشدی کی کتاب (سیٹینگ ورسز) کے خلاف ہنگامہ کھڑا کئے ہوئے ہیں۔ آیت اللہ خمینی اور ایرانی حکومت کی طرف سے انعام کے اعلان کے بعد اس میں مزید بہت زیادہ تیزی آگئی ہے۔ اس نے اخباروں کو ایک نیا پرشور عنوان دے دیا ہے۔ کیونکہ اس طرح کی چیزیں عوام میں خوب پڑھی جاتی ہیں۔ جائزے سے معلوم ہوا ہے کہ اخباروں میں جو ایڈیٹوریل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page