Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

ڈائری سے انتخاب

Urdu book, p. 245

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوتے ہیں ، ان کو صرف 3 فی صد لوگ پڑھتے ہیں۔ جب کہ بڑے بڑے جرائم کی خبریں صد فی صد پڑھی جاتی ہیں۔ Readability factor کے لحاظ سے کرائم (جرم) کو اخباری صفحات میں ٹاپ کی جگہ حاصل ہے۔ اخباروں کا یہی مزاج ہے جس نے سلمان رشدی کے خلاف مسلمانوں کے ہنگاموں اور توڑ پھوڑ اور قتل کے منصوبوں کو اخبارات کے صفحہ اول پر جگہ دے دی ہے۔ اب فرض کیجئے کہ ایک مسلمان ٹیلی فون پر سلمان رشدی سے ملاقات کا اپائنٹمنٹ لیتا۔ وہ رات کو نمازیں پڑھ کر اللہ سے دعا کرتا کہ خدایا، تو سلمان رشدی کو ہدایت عطا فرما۔ اس کے بعد وہ اگلے دن سلمان رشدی سے ملاقات کرتا اور تنہائی میں دل سوزی اور خیر خواہی کے ساتھ اس کو نصیحت کرتا۔ اگر کوئی مسلمان ایسا کرتا تو اللہ کی نظر میں وہ سب سے بڑا واقعہ ہوتا۔ مگر اخبار والوں کے نزدیک وہ اتنا غیر اہم ہوتا کہ گوشہ کی چند سطری خبر میں بھی اس کو جگہ نہ ملتی۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان ان کاموں کو تو بہت دھوم کے ساتھ کر رہے ہیں جو اخبار والوں کے نزدیک اہم ہیں۔ مگر ان کاموں سے انھیں کوئی دلچسپی نہیں جو اللہ تعالیٰ کے یہاں اہمیت رکھتے ہیں۔ بلاشبہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی بربادی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔ 24 فروری 1989 اخبار قومی آواز (22 فروری 1989) میں ایک مسلم لیڈر کا مراسلہ چھپا ہے۔ وہ سلمان رشدی کی کتاب (Satanic Verses) کے خلاف غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ مسلمان اپنے رسول کی توہین کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کر سکتا۔ آج کل ہر مسلم اخبار یا رسالہ میں اس قسم کے الفاظ چھپ رہے ہیں۔ میرے نزدیک یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page