Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

ڈائری سے انتخاب

Urdu book, p. 246

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمانوں کا اپنا بنایا ہوا دین ہے۔ اس کا خدا اور رسول کے دین سے کوئی تعلق نہیں۔ خدا ورسول کے دین میں اصل اہمیت دعوت کی ہے۔ نہ کہ ان چیزوں کی جن کو موجودہ مسلمان اہمیت دے ہوئے ہیں۔ اسلامی نقطہ نظر سے صحیح بات یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ ”مسلمان دعوت کے مواقع کی بربادی کو کسی قیمت پر برداشت نہیں کر سکتا۔“ مسلمانوں نے سلمان رشدی کے خلاف جو شور و غل کیا ہے اس کا واحد نتیجہ یہ ہوا ہے کہ دعوت کے مواقع ناقابل تلافی حد تک برباد ہو گئے۔ سلمان رشدی نے مذکورہ کتاب لکھ کر اپنے آپ کو بدنام کیا تھا مگر مسلم رہنماؤں نے اس کے خلاف ہنگامہ کر کے اسلام کو بدنام کیا ہے۔ اصل اہمیت کی چیز مواقع دعوت کا تحفظ تھا نہ کہ ”توہین رسالت“ پر بھڑک کر قتل و غارت گری شروع کر دینا۔ 1989ء 6 مارچ بعد کے مسلم علماء نے یہ مسئلہ بنا لیا ہے کہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر طعن کرے وہ لازماً قتل کیا جائے۔ اس مسئلہ کے حق میں کوئی صریح نص قرآن وحدیث میں موجود نہیں ہے۔ یہ مسئلہ تمام تر قیاسی اور استنباطی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں عرب کے بے شمار لوگوں نے آپ پر طعن کیا۔ مگر آپ نے انھیں قتل نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر آپ ایسا کرتے تو اسلام کی تاریخ ہی نہ بنتی۔ کیونکہ یہی لوگ تھے جو بعد کو مومن ہو کر اسلام کی طاقت کا ذریعہ بنے۔ ابن القیم نے اپنی کتاب زاد المعاد (جلد 5، صفحہ 61) میں اس مسئلہ پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ قدیم عرب میں ایسے لوگ تھے جنھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت پر قدح کیا۔ مگر آپ نے انھیں قتل نہیں کیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا آپ کو حق حاصل تھا۔ آپ کو آزادی تھی کہ خواہ ایسے شخص کو سزا دیں یا اسے چھوڑ دیں۔ مگر آپ کی امت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page