ڈائری سے انتخاب
Urdu book, p. 247
By Maulana Wahiduddin Khan
کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق کو وصول کرنا ترک کردے (فَذَلِكَ أَنَّ الْحَقَّ لَهُ، فَلَهُ أَنْ يَسْتَوْفِيَهُ، وَلَهُ أَنْ يَتْرُكَهُ، وَلَيْسَ لِأُمَّتِهِ تَرْكُ اِسْتِيفَاءِ حَقِّهِ صلی اللہ علیہ وسلم)۔ ابن قیم کی یہ توجیہ نہایت کمزور ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر اس قسم کی توجیہ کو شریعت میں معتبر مان لیا جائے تو شریعت کا سارا نظام بگڑ کر رہ جائے گا۔ 6 اپریل 1989ء پیارے لال بھون (نئی دہلی) کے ایک اجتماع میں شریک ہوا اور منتظمین کی دعوت پر مختصر تقریر ہوئی۔ یہ اجتماع ایک انگریزی کتاب کے اجراء (Release) کی تقریب پر کیا گیا تھا۔ یہ کتاب ڈاکٹر ماجد علی خاں نے Satanic Verses کے جواب میں لکھی ہے اور اس کا نام The Holy Verses ہے۔ میرا تاثر یہ تھا کہ کوئی شخص بھی سنجیدہ نہیں۔ نہ سننے والے اور نہ سنانے والے۔ جو صاحب اس اجتماع کے چیف گیسٹ تھے، انھوں نے اپنی تقریر میں ’’سلمان رشدی‘‘ کا نام نہیں لیا۔ انھوں نے کہا میں اس ملعون کا نام لے کر اپنی زبان کو گندا کرنا نہیں چاہتا۔ ان کے اس جملہ پر زور دار تالیاں بجائی گئیں۔ مگر جب وہ اپنی تقریر کو مکمل کرکے واپس آئے تو میں نے سنا کہ سب سے پہلے انھوں نے سلمان رشدی کا نام لیا۔ میرے اور مذکورہ چیف گیسٹ کے درمیان صدر صاحب بیٹھے ہوئے تھے۔ انھوں نے صدر صاحب سے کہا: ’’میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس شخص نے اپنا نام رشدی کیوں رکھا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ شخص اپناذ ہنی رشتہ ابن رشد سے جوڑتا ہے، کیونکہ وہ بھی ایک گمراہ آدمی تھا۔‘‘ آج رمضان 1428 ہجری کی پہلی تاریخ ہے۔ حدیث میں روزے کے بارے میں آیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader