Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

ڈائری سے انتخاب

Urdu book, p. 248

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ: مَنْ لَمْ يَدَعْ قَوْلَ الزُّورِ وَالْعَمَلَ بِهِ، فَلَيْسَ لِلَّهِ حَاجَةٌ فِي أَنْ يَدَعَ طَعَامَهُ وَشَرَابَهُ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 1903)۔ یعنی، جس نے قولِ زور اور عملِ زور ترک نہیں کیا، اللہ کے نزدیک اس کے کھانا اور پانی چھوڑنے کی کوئی اہمیت نہیں۔ اس حدیث میں قولِ روز کا مطلب ہے واقعے کے خلاف بولنا۔ عملِ زور یعنی جھوٹ پر عمل کرنا کیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ جھوٹ کی بنیاد پر اپنا عملی منصوبہ بنایا جائے۔ مثلاً کسی کو یہ فرضی الزام دیا جائے کہ اس نے رسول اللہ کا شتم کیا ہے اور پھر اس کے قتل کا فتویٰ دے دیا جائے۔ اسی طرح مثلاً یہ دعویٰ کیا جائے کہ امریکا اسلام دشمن ہے اور پھر اس کے خلاف ہر قسم کے تشدد کو دفاعِ اسلام قرار دے کر جائز بتایا جائے۔ 14 دسمبر 2007 آج راشٹریہ سہارا (اردو) کے نمائندہ مسٹر اسجد ندوی آئے۔ انھوں نے اپنے اخبار کے لیے شتم رسول کے مسئلے پر ایک انٹرویو کیا۔ میں نے کہا کہ اگر چہ فقہا کی اکثریت یہ مانتی ہے کہ شاتم رسول کو قتل کیا جائے گا (یقتل حداً)، لیکن یہ رائے تمام تر قیاس اور اجتہاد پر مبنی ہے۔ اس کے حق میں کوئی صریح نص موجود نہیں، یعنی اس طرح کا جملہ قرآن یا حدیث میں موجود نہیں کہ: ”مَنْ شَتَمَ رَسُولَكُمْ فَاقْتُلُوهُ“، جو تمھارے رسول کی شتم کرے اس کو قتل کر دو۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سارے انسانوں کے خیر خواہ تھے۔ میرے نزدیک سب سے بڑا شتم رسول یہ دعویٰ کرنا ہے کہ پیغمبر اسلام نے اپنے پیروؤں کو یہ حکم دیا ہے کہ میری شان میں گستاخی کرنے والے ہر شخص کو قتل کر دو۔ میرا ماننا ہے کہ ایسا کہنا رسول اللہ کو ”رحمت للعالمین“ کی حیثیت سے گرانا ہے۔ میں ذاتی طور پر اس مسئلے کو غلط سمجھتا ہوں کہ توہین رسول یا شتم رسول ایک قابلِ سزا جرم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page