ڈائری سے انتخاب
Urdu book, p. 249
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے ۔ یہ مسئلہ نہ قرآن میں ہے اور نہ حدیث میں ۔ عباسی دور کے فقہاء نے یہ مسئلہ بنایا۔ میں ذاتی طور پر اس کو فقہی بدعت سمجھتا ہوں۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ توہین رسول کا مسئلہ تو ہین محمد کا مسئلہ نہیں ہے۔ خود فقہاء کے مطابق ، اس کا تعلق خدا سے، تمام رسولوں سے اور پیغمبر اسلام سے ہے ۔ مگر عملاً دیکھیے تو مسلمانوں نے اس کو توہین محمد کے ہم معنی بنا رکھا ہے۔ خدا کے خلاف سخت ترین باتیں ہوتی ہیں ۔ لیکن کوئی مسلمان اس پر نہیں بھڑکتا۔ دوسرے مسلمانوں کی تو ہین کی جاتی ہے لیکن اس پر بھی کوئی نہیں بھڑکتا۔ مسلمان استثنائی طور پر صرف پیغمبر اسلام کی تو ہین پر بھڑکتے ہیں۔ یہ بلاشبہ جاہلیت ہے خود فقہی مسئلے کے مطابق، مسلمانوں کی یہ روش اسلامی روش نہیں ۔ یہ ایک خود ساختہ شریعت ہے نہ کہ اسلامی شریعت ۔ 17 اپریل 2006 مجلس التحقیق الاسلامی (لاہور) کے ترجمان ماہ نامہ محدث کے شمارہ مارچ 2006 میں ایک مضمون اس عنوان کے تحت شائع ہوا ہے: توہین رسالت اور احادیث نبویہ صلی اللہ علیہ وسلم اس مضمون کے لکھنے والے شیخ الحدیث مولانا محمد علی جاں باز ہیں۔ اپنے اس مضمون میں انھوں نے شتم رسول کے متعلق ایک حدیث اس طرح نقل کی ہے: مَنْ سَبَّ نَبِيَّا قُتِلَ، وَمَنْ سَبَّ أَصْحَابَهُ جُلِدَ (صفحہ 41) ۔ یہ حدیث انھوں نے ابن تیمیہ کی کتاب الصارم المسلول ( صفحہ 92) کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ میں نے ابن تیمیہ کی کتاب میں اس حدیث کو نکالا۔ معلوم ہوا کہ یہ حدیث صحاح ستہ میں نہیں ہے ۔ وہ بعض ایسی کتابوں کے حوالے سے ہے جن میں رطب و یابس روایتیں بھرئی ہوئی ہیں ۔ مزید یہ کہ خود ابن تیمیہ نے اس روایت کو ضعیف بتایا ہے (هَذَا الإِسْنَادُ الشَّرِيفُ قَدُرُ كُتِبَ عَلَيْهِ مُتُونَ نَكِرَةٌ،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader