Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

ڈائری سے انتخاب

Urdu book, p. 250

By Maulana Wahiduddin Khan

وَالمُحَدِّثُ بِهِ عَنْ أَهْلِ البَيْتِ يُعَدُّ ضَعِيفًا) الصارم المسلول لابن تیمیہ، صفحہ 93۔ ایسی حالت میں اس حدیث کو لے کر سب وشتم کرنے والے شخص کے قتل کا فتوٰی دینا خود ایک نا قابلِ معافی جسارت ہے۔ 19 اپریل 2000 بدنام کتاب Satanic Verses کے مصنف سلمان رشدی آج کل ہندوستان میں ہیں۔ اس نسبت سے ان کی شخصیت اور ان کی کتاب کے بارے میں ہندوستان کے اخباروں میں رپورٹیں آرہی ہیں۔ دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا کے نمائندہ نے آج ٹیلی فون پر مجھ سے اس موضوع پر تبصرہ پوچھا۔ میں نے کہا کہ میں نے اس موضوع پر ایک مستقل کتاب شائع کی ہے۔ میں اسی معاملہ میں آیت اللہ خمینی کے فتوٰی کو غلط سمجھتا ہوں۔ اسلام میں یہ تعلیم نہیں دی گئی ہے کہ کوئی شخص گستاخی کرے تو اس کو قتل کر دو۔ میں نے کہا کہ سیٹک ورسنز ایک انتہائی لغو کتاب تھی اور اس کا صحیح جواب یہ تھا کہ اس کو مکمل طور پر نظر انداز کیا جائے میں نے کہا کہ اس قسم کی چیزوں کے بارے میں اسلام کے خلیفہ ثانی عمر فاروق نے کہا ہے کہ: "أَمِيْتُوا البَاطِلَ بِالصَّمْتِ عَنْهُ“۔ یعنی باطل کو ختم کرو اس کے بارے میں خاموشی اختیار کرکے: "Kill the falsehood by observing silence over it." ٹائمس آف انڈیا کے نمائندہ کو حضرت عمر کا یہ قول بہت پسند آیا۔ اس نے کئی بار اس کو دہرایا۔ اصل یہ ہے کہ آج کا انسان تشدد سے نفرت کرتا ہے۔ اس کو صرف امن کی بات اچھی لگتی ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان جدید دور کے انسان کی اس نفسیات کو نہیں سمجھتے وہ مختلف انداز میں تشدد کی باتیں کرتے ہیں۔ اور اس طرح لوگوں کو اسلام سے بیزار کر رہے ہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page