Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

دعوت کے حدود

Urdu book, p. 268

By Maulana Wahiduddin Khan

آنے پر مسلمانوں کا مروجہ احتجاجی ردعمل اسلامی تعلیمات کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتا۔ یہاں ایک داعی کو یہ کرنا ہے کہ وہ دلائل کے ذریعہ پیغمبر اسلام کی سیرت اور ان کے پیغام کو لوگوں کے سامنے پیش کرے۔ ”شتم رسول“ کا واقعہ آپ کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ آپ لوگوں کے سامنے پیغمبر کی تعلیمات کو پرامن انداز میں پیش کریں۔ لیکن اگر کچھ لوگ ”اینٹ شتم رسول مہم“ چلائیں ۔ وہ شتم رسول کے خلاف سڑکوں پر دھرنا دیں، مفروضہ شاتم کا پتلا (effigy) بنا کر اس کو جلائیں اور دکانوں کو بند کرائیں ، وغیرہ تو اس قسم کی مہم درست نہ ہوگی ۔ یہ گویا ابلاغ کی حد کو پار کر کے اجبار کی حد میں داخل ہوتا ہے۔ ایسا طریقہ عام انسانوں کو اللہ اور اس کے دین سے دور کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اس قسم کی "ایینٹ" مہم چلانا گویا دعوتی مواقع کو قتل کرنا ہے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تخریب س، نہ کہ دین کی خدمت ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page