کارٹون
Urdu book, p. 269
By Maulana Wahiduddin Khan
کارٹون ڈنمارک کے ایک مقامی اخبار (Jyllands-Posten) میں 30 ستمبر 2005 چھپنے والے کارٹون کو مسلمانوں نے جس طرح توہین رسول کا مسئلہ بنایا اور اُس پر شدید ہنگامے کیے، اُس کا کوئی بھی تعلق، اسلام سے نہ تھا۔ مذکورہ کارٹون کی حیثیت تو صرف ایک صحافتی جوک (joke) کی تھی۔ اِس قسم کا جوک موجودہ صحافت میں عام ہے۔ لیکن مسلمانوں نے اِس کے ردعمل میں جس طرح نفرت اور تشدد کا مظاہرہ کیا، وہ بلاشبہ توہین رسول کا ایک فعل تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کا مطالعہ بتاتا ہے کہ آپ کے زمانے میں بار بار اس نوعیت کے واقعات ہوئے ہیں، لیکن آپ نے ان کے مقابلے میں صرف ایک روش کا اظہار کیا، اور وہ ان واقعات کو نظر انداز کرنا تھا۔ چنانچہ میں نے ڈنمارک کے کارٹون کا واقعہ پیش آنے کے بعد ایک آرٹیکل لکھا تھا، جو اُسی زمانے میں درج ذیل عنوان کے تحت چھپا: "Ignore Cartoons." پیغمبر اسلام کی تعلیمات میں سے ایک تعلیم یہ ہے کہ ہر اُس اقدام سے بچو جس سے اسلام کی امیج خراب ہوتی ہو۔ موجودہ زمانہ فریڈم آف ایکسپریشن کا زمانہ ہے۔ ایسے زمانے میں کارٹون جیسے مسئلہ پر ہنگامہ کھڑا کرنا، یقینی طور پر یہ تاثر پیدا کرے گا کہ اسلام آزادی اظہار رائے کے خلاف ہے۔ ایسی حالت میں کارٹون جیسے مسائل پر ہنگامہ آرائی کرنا کسی بھی عذر کی بنا پر جائز نہیں ہوسکتا۔ اگر مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوتے ہوں، تب بھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader