Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

پیغمبر کے نام پر غیر پیغمبرانہ روش

Urdu book, p. 271

By Maulana Wahiduddin Khan

پیغمبر کے نام پر غیر پیغمبرانہ روش 20-24 جنوری 2012 کے دوران راجستhan میں جے پور لٹریچر فیسٹول (Jaipur Literature Festival) ہوا۔ یہ ایک انٹرنیشنل فیسٹول تھا۔ اس میں مختلف ملکوں کے آرٹسٹ اور اہل علم بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ اس فیسٹول میں سلمان رشدی (مقیم لندن) کو بھی بلایا گیا تھا، مگر انڈیا کی مسلم تنظیموں نے اس کے خلاف شدید احتجاج کیا اور یہ مانگ کی کہ رشدی انڈیا میں نہ آنے پائیں، کیوں کہ انھوں نے اپنی کتاب (Satanic Verses) میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی ہے۔ حکومتِ ہند نے سیاسی مصالح کے تحت، مسلمانوں کے اس مطالبے کو مان لیا اور سلمان رشدی کے دورۂ ہند کو منسوخ کر دیا گیا۔ ہندوستان کے مسلمانوں نے یہ مطالبہ بہ ظاہر پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر کیا تھا، مگر اپنی حقیقت کے اعتبار سے، وہ پیغمبرِ اسلام کے اُسوہ (model) کی نفی تھا۔ یہ بظاہر فتح، اپنے نتیجے کے اعتبار سے، صرف بدترین شکست کے ہم معنی تھی۔ اس طرح کے معاملے میں پیغمبرِ اسلام کا اسوہ یہ ہے کہ اس کو غیر جذباتی انداز میں دیکھا جائے، مسئلہ (problem) کو نظرانداز کرتے ہوئے موقع (opportunity) کو استعمال (avail) کیا جائے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی زمانے میں کعبہ میں 360 بت رکھے ہوئے تھے۔ یہ بلاشبہ ایک مسئلہ تھا، لیکن اسی کے ساتھ اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ انھیں بتوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں وہاں مشرک زائرین آتے تھے۔ پیغمبرِ اسلام نے کعبہ میں بتوں کی موجودگی کو نظر انداز کیا اور مشرک زائرین کے سامنے قرآن کا پیغام پیش کیا۔ جے پور لٹریچر فیسٹول کے موقع پر مسلمانوں کو یہی کام کرنا تھا۔ اس فیسٹول میں ہندستانی اور غیر ہندستانی لوگ بڑی تعداد میں شریک ہورہے تھے۔ مسلمانوں کو یہ کرنا چاہیے تھا کہ وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page