Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

اعراض کی ضرورت

Urdu book, p. 273

By Maulana Wahiduddin Khan

اعتراض کی ضرورت جس طرح تصویر جدید صحافت کا ایک حصہ ہے ، اسی طرح کارٹون بھی جدید صحافت کا ایک حصہ ہے۔ تصویر اور کارٹون دونوں کا مقصد ایک ہے۔ صحافت کو قارئین کے لیے دلچسپ بنانا۔ کارٹون کا مقصد نہ کسی کی تعریف ہوتی ہے اور نہ کسی کی توہین۔ وہ اخبار کا صرف ایک تفنن آمیز جُز (comic item) ہوتا ہے۔ سنجیدہ آدمی کارٹون کو دیکھ کر اس سے محظوظ ہوگا یا وہ سادہ طور پر اس کو نظر انداز کر دے گا۔ ڈنمارک کے ایک اخبار شیلانڈس پوسٹین (Jyllands-Posten) میں 30 ستمبر 2005 کو ایک مضمون کے تحت ، ایک کارٹون چھپا۔ اس کارٹون میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خاکہ بنایا گیا تھا ، اور آپ کے سر پر ایک پگڑی دکھائی گئی تھی جس کی بناوٹ بم کی مانند تھی۔ اس کارٹون کی خبر جب مسلم دنیا تک پہنچی تو تمام مسلمان اس پر برہم ہو گئے ۔ کچھ لوگوں نے توڑ پھوڑ شروع کردی ۔ کچھ لوگوں نے تقریر اور تحریر میں اس کے خلاف احتجاج کیا۔ میرے علم کے مطابق ، ساری مسلم دنیا میں غالباً کوئی شخص نہیں تھا جو مسلمانوں کے اس منفی ردِ عمل کی کھلی مذمت کرے۔ قابلِ اعتراض کارٹون کی مذمت کرنا اور منفی احتجاج کی مذمت نہ کرنا بلا شبہ اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔ کارٹون کے خلاف اس منفی ردِ عمل کو یہ کہہ کر جائز قرار دیا گیا کہ وہ پیغمبر اسلام کو بدنام کرنے کی مہم کے تحت کیا گیا ہے اور اس قسم کی مہم ہمارے لیے نا قابلِ برداشت ہے۔ مگر یہ سوچ اسلامی تعلیمات کے مطابق نہیں۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق ، اس طرح کے معاملے میں صحیح سوچ یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ اس کا اصل سبب کیا ہے ، اور اصل سبب کی نسبت سے اپنے ردِ عمل کا تعین کیا جائے۔ غور کیجیے تو اس قسم کے کارٹون کو وجود میں لانے کے ذمے دار

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page