اعراض کی ضرورت
Urdu book, p. 274
By Maulana Wahiduddin Khan
خود مسلمان ہیں۔ ایسی حالت میں مسلمانوں کے اندر ذاتی احتساب (introspection) کا ذہن ابھرنا چاہیے، نہ کہ دوسروں کے خلاف احتجاج و مظاہرہ کا ذہن۔ عربی مثل ہے کہ "تُعْرَفُ الْأَشْيَاءُ بِأَضْدَادِهَا" (چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں)۔ اس اصول کو اس معاملے میں استعمال کرکے دیکھیے۔ دنیا میں ایک درجن بڑے مذاہب ہیں۔ ہر مذہب کے مقدس پیشوا ہیں۔ مگر ان پیشواؤں کے ساتھ ایسا نہیں ہوتا کہ ان کے سر پر بم رکھا ہوا دکھایا جائے۔ پھر کیوں ایسا ہے کہ پیغمبرِ اسلام کے ساتھ اس قسم کا معاملہ پیش آیا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلمان لمبے عرصے سے اسلام کے نام پر جگہ جگہ تشدد کر رہے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ دوسرے مذاہب کے لوگ بھی تشدد میں ملوث ہیں۔ مثلاً آئر لینڈ میں عیسائی، آسام میں ہندو، سری لنکا میں بدھسٹ وغیرہ۔ مگر فرق یہ ہے کہ دوسرے مذہب کے لوگ اپنا متشددانہ عمل اپنے قومی مفاد کے نام پر کرتے ہیں، جب کہ مسلمان اپنے متشددانہ عمل کو اسلامی جہاد کے نام پر کرتے ہیں۔ ایسی حالت میں یہ ایک فطری بات ہے کہ دوسری قوموں کا متشددانہ عمل ان کی اپنی قوم کی طرف منسوب کیا جائے، اور مسلمانوں کا متشددانہ عمل ان کے مذہب کی طرف منسوب ہو اور مذہب اسلام کی بدنامی کا سبب بنے۔ اس اعتبار سے غور کیجیے تو مذکورہ اخباری کارٹون کو دیکھنے کے بعد مسلمانوں کے اندر ذاتی احتساب کا جذبہ ابھرنا چاہیے تھا۔ وہ کہتے کہ ہم نے خود اپنی روش کے ذریعے دنیا کو یہ تاثر دیا ہے کہ پیغمبرِ اسلام کا مذہب، تشدد کا مذہب ہے۔ اس لیے ہم کو چاہیے کہ ہم اسلام کے نام پر کیے جانے والے تشدد کو مکمل طور پر چھوڑ دیں۔ یا اگر تشدد کرنا ہے تو اس کو اسلام کے نام پر نہ کریں، جیسا کہ دوسرے مذاہب کو ماننے والے کر رہے ہیں۔ اسلام کی تعلیمات میں سے ایک اہم تعلیم وہ ہے جس کے لیے قرآن میں صبر اور اعراض

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader