Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

کارٹون کا مسئلہ

Urdu book, p. 280

By Maulana Wahiduddin Khan

سے کوئی اجتماعی مسئلہ پیدا نہیں ہوگا۔ لیکن جب وہ اپنی آزادی کا استعمال اجتماعی زندگی میں کرے تو یقینی طور پر مسائل پیدا ہوں گے۔ ایسی حالت میں فرد کو یہ سوچنا چاہیے کہ کیا وہ اُن منفی نتائج کا تحمل کر سکتا ہے جو آزادی کے لامحدود استعمال کی صورت میں اس کے لیے پیدا ہوں گے۔ استعمالِ آزادی کے اِسی پہلو کو لے کر امریکہ کے پروفیسر اسکنر (Skinner) نے کہا تھا کہ لامحدود آزادی کا تصور نہایت خطر ناک ہے، ہم ایسی آزادی کا تحمّل نہیں کر سکتے : "We can't afford such a freedom." ڈنمارک کے لوگ روایتی طور پر امن پسند لوگ ہیں، وہ مادی خوش حالی میں یقین رکھتے ہیں، میں نہیں سمجھتا کہ ڈنمارک کے لوگ یہ نادانی کریں گے کہ وہ اس حد تک نظریہ پرست بن جائیں گے کہ وہ اپنی آزادی کا لامحدود استعمال کرتے رہیں ، خواہ اس کے نتیجے میں ان کے بین اقوامی تعلقات خراب ہوں، ان کی فیکٹریاں بند ہو جائیں ۔ ان کو ناقابل تلافی حد تک تجارتی نقصان کا سامنا کرنا پڑے ۔ یقیناً اب وہ اس معاملے میں اپنی پالیسی کو بدلیں گے ۔ مگر فارسی شاعر کے مطابق، آدمی ایسا کام کیوں کرے جس کا نتیجہ شرمندگی ہو: کُجا کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی۔ اِس معاملے میں مسلمانوں کو بھی اسلامی تعلیم کے مطابق، احتسابِ خویش (introspection) سے کام لینا چاہیے۔ مسلمانوں کو بھی اِس معاملے میں حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے یہ سوچنا چاہیے کہ اِس طرح کے معاملے میں صحیح ردِ عمل کیا ہے اور نتیجہ خیز (result-oriented) تدبیر کیا ہو سکتی ہے۔ اسلامی طرزِ فکر کے مطابق، سوچنے کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کو صرف "سازش" کی اصطلاح میں نہ سوچا جائے بلکہ زیادہ حقیقت پسندانہ انداز میں اس کو سمجھنے کی کوشش کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page