کارٹون کا مسئلہ
Urdu book, p. 281
By Maulana Wahiduddin Khan
جائے۔ یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ مذکورہ کارٹونسٹ نے جس تصور کو اپنے خاکے میں پیش کیا وہ تصور اس کو کہاں سے ملا۔ اگر غیر جذباتی انداز میں سوچا جائے تو خود مسلمان بھی اس میں یکساں طور پر شریک نظر آئیں گے۔ مثلاً کارٹونسٹ نے اپنے کارٹون میں دکھایا تھا کہ پیغمبر اسلام اپنے ہاتھ میں ایک چھری لیے ہوئے ہیں۔ بے لاگ انداز میں غور کیجیے تو کارٹونسٹ یہ کہہ سکتا ہے کہ مجھ کو یہ تصوُّر مسلم شاعر ڈاکٹر محمد اقبال سے ملا۔ اقبال نے خود اپنے ایک شعر میں پیغمبر اسلام کے ماننے والوں کی تصویر ان الفاظ میں پیش کی ہے: ہر مسلماں رگ باطل کے لیے نشتر تھا اقبال کے اس مصرعے کا انگریزی ترجمہ مسٹر خوشونت سنگھ نے ان الفاظ میں کیا ہے: To every vein of falsehood, every Muslim was a knife. اسی طرح ڈنمارک کا کارٹونسٹ یہ کہہ سکتا ہے کہ پیغمبر اسلام کو ماننے والے خود یہ کر رہے ہیں کہ اپنے جسم پر بم باندھ کر وہ اجتماعی مقامات پر جاتے ہیں اور دھماکہ کر کے وہاں بہت سے لوگوں کو ہلاک کر دیتے ہیں۔ میں نے اپنے کارٹون میں صرف یہ کیا تھا کہ بم کو جسم پر باندھنے کے بجائے اس کو سر کے اوپر رکھ دیا— ظاہر ہے کہ اس بات کا مسلمانوں کے پاس کوئی ایسا جواب نہ ہوگا جو مذکورہ کارٹونسٹ کو مطمئن کر سکے۔ اسلام کا ایک اہم اصول یہ بھی ہے کہ مسلمان ایسا کوئی کام نہ کریں جو دوسروں کو یہ کہنے کا موقع دے کہ ہم تو وہی کر رہے ہیں جس کا نمونہ ہم کو تمہاری اپنی زندگی میں ملا تھا (ایس گناہ ہے ست کہ در شہر شما نیز کنند)۔ مسلمان اگر یہ چاہتے ہیں کہ کوئی شخص ان کی پرتشدد تصویر نہ بنائے تو خود ان کو بھی اپنے آپ کو پر تشدد اعمال سے بچانا ہوگا۔ یہ ناممکن ہے کہ مسلمان ایک پرتشدد عمل کریں اور میڈیا میں جب اس کی خبر آئے تو اس کے عنوان میں تشدد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader