جذباتی ہنگامہ آرائی
Urdu book, p. 286
By Maulana Wahiduddin Khan
جذباتی هنگامه آرائی ستمبر 2012 میں امریکا میں ایک فلم بنائی گئی۔ اس فلم کا نام تھا ۔ مسلمانوں کی معصومیت (Innocence of Muslims) ۔ اس فلم میں ایسے مناظر دکھائے گئے تھے جو مسلمانوں کی نظر میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ”گستاخی“ کے ہم معنی تھے۔ اس کے بعد دنیا بھر کے مسلمان بھڑک اٹھے۔ شرق سے غرب تک، ہر جگہ اس کے خلاف پرشور احتجاج ہونے لگا۔ ہر جگہ دھوم کے ساتھ جذباتی مظاہرے اور تقریریں کی گئیں۔ ان مواقع پر مسلمان جگہ جگہ اپنے مظاہروں کے دوران جو پلے کارڈ (placard) بلند کیے ہوئے تھے، اُن کی نوعیت کا اندازہ اُن پر لکھے ہوئے حسب ذیل الفاظ کے ذریعے کیا جا سکتا ہے: "Obama, Obama, we like Osama! Behead all those who insult the Prophet! Insulting the Prophet is insulting 1.5 billion Muslims! The Prophet is dearer to us than our lives!" اس سلسلے میں دنیا کے مختلف ملکوں میں جو پرشور مظاہرے کیے گئے، اُن میں سے ایک پاکستان کا وہ مظاہرہ تھا جو 28 ستمبر 2012 کو ”یوم عشقِ رسول“ کے طور پر منایا گیا۔ اس واقعے کی رپورٹ لاہور کے ہفت روزہ سنڈے میگزین نوائے وقت (30 ستمبر 2012) میں شائع ہوئی ہے۔ اس رپورٹ کے کچھ حصے یہاں نقل کیے جاتے ہیں: ”پاکستانی قوم نے جمعہ کو یوم عشقِ رسول منایا۔ گستاخانہ امریکی فلم کے خلاف ”یوم عشقِ رسول“ پر عوامی ردعمل کے دوران غیرمعمولی توڑ پھوڑ اور تشدد کے واقعات ہوئے۔ ان پر تشدد واقعات میں صرف جمعہ کو 32 افراد جاں بحق ہوئے اور 200 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ کراچی میں 5 سینما گھر، تین بینک اور

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader