Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

جذباتی ہنگامہ آرائی

Urdu book, p. 287

By Maulana Wahiduddin Khan

لاتعداد دکانیں لوٹنے کے بعد جلادی گئیں، گاڑیوں کو توڑا گیا، لوگوں پر ڈنڈے برسائے گئے، 4 پولیس موبائلیں اور ریکٹر بند گاڑیاں بھی جلادی گئیں ۔ اس دوران اسپتالوں پر بھی حملے کیے گئے اور اربوں روپے کی املاک دھویں کی نذر ہوگئیں “ ۔ (صفحہ 4) ” گستاخی رسول“ کے سوال پر اس طرح کے پر تشدد واقعات مسلمانوں کی طرف سے ہر جگہ ہورہے ہیں، پاکستان میں بھی اور دوسرے ملکوں میں بھی۔ ان واقعات کی رپورٹ برابر پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا دونوں میں آرہی ہے ۔ اس صورت حال کو دیکھ کر ساری دنیا میں ایک سوال کیا جارہا ہے، وہ یہ کہ ـــ پر امن گستاخی کے جواب میں مسلمان خود پر تشدد گستاخ کیوں بن جاتے ہیں۔ رسول کی شان میں ” گستاخی“ کرنے والا صرف یہ کرتا ہے کہ وہ اس قسم کی ایک کتاب شائع کرتا ہے، یا اخبار میں ایک کارٹون چھاپ دیتا ہے، یا ایک فلم بنا کر اس کو انٹرنیٹ پر ڈال دیتا ہے۔ یہ اگر گستاخی ہے تو وہ یقینی طور پر ایک پر امن گستاخی ہے، لیکن اس کے جواب میں مسلمان جو کچھ کرتے ہیں ، وہ مبینہ طور پر ایک پر تشدد رد عمل یا پر تشدد گستاخی کا معاملہ ہے۔ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اسلامی شریعت دی ہے، اُس میں واضح طور پر اس طرح کے معاملات میں ایک اصول بتایا گیا ہے، وہ قصاص (2:178) کا اصول ہے، یعنی برابر کا بدلہ (Equal Retribution) ۔ قصاص کی تعریف قرآن میں ان الفاظ میں دی گئی ہے: وَإِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوا بِمِثْلِ مَا عُوقِبْتُم بِهٖ ۖ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّبِرِينَ (16:126) تم بدلہ لو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنا کہ تمھارے ساتھ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک اور آیت کے الفاظ یہ ہیں: وَجَزَؤُا سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا ۖ فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page