Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

شتم رسول کا مسئلہ

Urdu book, p. 288

By Maulana Wahiduddin Khan

الظَّلِمِينَ (42:40) یعنی برائی کا بدلہ ہے ویسی ہی برائی، پھر جس نے معاف کر دیا اور اصلاح کی تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ بے شک اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ دو آپشن قرآن کی مذکورہ آیتوں کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کے معاملے میں اہل ایمان کے لیے دو میں سے ایک کا آپشن (option) ہے— ایک، عفو اور صبر کا آپشن اور دوسرا، قصاص کا آپشن۔ اس طرح کے معاملے میں مسلمانوں کے لیے انھیں دو میں سے ایک کا آپشن جائز ہے، اس کے سوا کوئی تیسرا آپشن لینا اُن کے لیے سرے سے جائز ہی نہیں۔ قتل کے معاملے میں اسلامی شریعت کا ایک مسلمہ قانون یہ ہے کہ زمانہ جنگ میں بھی صرف مقاتل (combatant) کو مارا جائے گا، غیر مقاتل (non-combatant) کو مارنا جنگ کے زمانے میں بھی جائز نہیں۔ ایسی حالت میں اسلام کیسے اجازت دے سکتا ہے کہ امن کی حالت میں غیر مقاتل یا پر امن افراد کو مارا جائے۔ عفو اور صبر کے آپشن کا مطلب یہ ہے کہ آپ پیش آمدہ معاملے پر رد عمل کی نفسیات کے تحت نہ سوچیں، بلکہ اصلاح کی نفسیات کے تحت سوچیں۔ آپ یہ سوچیں کہ جو شخص اِس ’’گستاخی‘‘ میں ملوث ہوا ہے، وہ بھی ایک انسان ہے۔ اس کے اندر بھی وہی فطرت موجود ہے جو دوسرے انسانوں کے اندر ہوتی ہے۔ اس لیے آپ ہمدردانہ انداز میں اس کی فطرت کو ایڈریس کرنے کی کوشش کریں۔ ہو سکتا ہے کہ اس کی اصلاح ہو جائے اور وہ توبہ کر کے اللہ کے نیک بندوں میں شامل ہو جائے۔ اس معاملے میں دوسرا آپشن وہ ہے جس کو قرآن میں قصاص کہا گیا ہے۔ یہ ثانوی درجے کا آپشن ہے۔ اس کی حیثیت صرف ایک قانونی جواز کی ہے۔ جہاں تک اسوہ رسول

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page