شتم رسول کا مسئلہ
Urdu book, p. 289
By Maulana Wahiduddin Khan
کا معاملہ ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کے معاملے میں ہمیشہ عفو اور صبر اور اصلاح کے طریقے کو اختیار فرمایا، کیوں کہ یہی طریقہ عزیمت اور خلقِ عظیم کا طریقہ ہے۔ جیسا کہ اس سلسلہ کلام کے تحت اگلی آیت میں ارشاد ہوا ہے: وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ إِنَّ ذَلِكَ لَمِنْ عَزْمِ الْأُمُورِ (43:42)۔ یعنی جس شخص نے صبر کا طریقہ اختیار کیا اور معاف کر دیا، تو بے شک یہ بڑی عزیمت کے اوصاف میں سے ہے۔ ایذا (harm) کی دو قسمیں ہیں— ایک، جسمانی ایذا (physical harm) اور دوسرے، نفسیاتی ایذا (psychological harm)۔ دونوں قسم کی ایذاؤں کی نوعیت ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ قرآن کی مذکورہ آیتوں کے مطابق، جسمانی ایذا کی صورت میں ہمارے لیے دو آپشن ہیں— قصاص، اور عفو۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، قصاص کا مطلب ہے: برابر کا بدلہ لینا، یعنی جتنا کسی نے کیا ہے، ٹھیک اتنا ہی اس کے ساتھ کرنا۔ اس کے مقابلے میں، عفو کا مطلب ہے: یک طرفہ طور پر صبر کر لینا، نہ کوئی عملی کارروائی کرنا اور نہ زبان سے اس کے خلاف شکایت یا احتجاج کے الفاظ بولنا۔ گو یا اسلامی تعلیم کے مطابق، جسمانی ایذا کی صورت میں اہلِ ایمان کے لیے دو آپشن ہیں، لیکن نفسیاتی ایذا کی صورت میں اُن کے لیے صرف ایک آپشن ہے، اور وہ صبر کا آپشن ہے۔ قصاص کا اصول جیسا کہ عرض کیا گیا، اس طرح کے معاملے میں قصاص کا آپشن ثانوی آپشن ہے۔ اگر مسلمانوں کو قصاص کا آپشن لینا ہے تو لازمی طور پر انھیں یہ کرنا ہوگا کہ وہ فریق ثانی کے ساتھ برابر کا معاملہ کریں، یعنی یہ کہ جتنا کسی نے کیا ہے، مسلمان بھی اس کے خلاف اتنا ہی کریں۔ اگر کسی شخص نے ایک کتاب چھاپی ہے تو مسلمان بھی اس کے جواب میں ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader