شتم رسول کا مسئلہ
Urdu book, p. 290
By Maulana Wahiduddin Khan
کتاب شائع کریں۔ کسی نے اگر کوئی قابل اعتراض آرٹیکل یا کارٹون چھاپا ہے تو اس کے جواب میں مسلمان بھی اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کے لیے ایک اور آرٹیکل چھاپیں۔ اگر کسی نے اسٹیج پر ایک تقریر کی ہے تو مسلمان بھی اس کے جواب میں اسٹیج پر ایک تقریر کریں۔ کسی نے ایک اخباری بیان دیا ہے تو مسلمان بھی اس کے جواب میں ایک مدلل اخباری بیان دیں۔ مسلمان اگر اس طرح کے معاملے میں پیغمبر کے اسوہ کے مطابق، عفو و صبر کا طریقہ اختیار نہیں کر سکتے تو اسلامی شریعت کے مطابق، اُن کو صرف یہ حق ہے کہ وہ قلم کا جواب قلم سے دیں اور تقریر کا جواب تقریر سے دیں۔ اس کے برعکس، قلم کا جواب پر تشدد مظاہرہ کے ذریعے دینا یا پر امن اعتراض کے جواب میں توڑ پھوڑ کرنا ایک ایسا فعل ہے جو بلاشبہ حرام کے درجے میں قابل ترک ہے۔ رسول اور اصحاب رسول کی مثال سے یہی طریقہ ثابت ہوتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مخالفین نے بہت بڑے پیمانے پر وہ سب کچھ کیا جس کو ”شتم رسول“ کہا جاتا ہے، مگر رسول اور اصحاب رسول نے کبھی اس کے جواب میں احتجاج اور ہنگامے کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ اس کے برعکس جو کچھ ہوا، وہ صرف یہ تھا کہ حسان بن ثابت انصاری اپنے اشعار کے ذریعے سے اس کا جواب دیتے تھے (هَجَاهُمْ حَسَّانُ فَشَفَى وَاشْتَفَى) صحیح مسلم، حدیث نمبر 2490۔ واضح ہو کہ اُس زمانے میں شاعری کا وہی درجہ تھا جو موجودہ زمانے میں صحافت کا درجہ ہے۔ پر امن احتجاج کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ احتجاج (protest) ہمارا ایک مسلّمہ حق ہے، اس لیے مسلمانوں کو لازماً اس طرح کے واقعات پر احتجاج کرنا چاہئے، البتہ یہ ضروری ہے کہ اُن کا یہ احتجاج پر امن ہو۔ مگر یہ شرط ایک ایسی شرط ہے جو عملاً کبھی پوری ہونے والی نہیں۔ عوامی احتجاج میں دو میں سے ایک برائی کا پیش آنا یقینی ہے، یا تو وہ بظاہر پر امن احتجاج کسی مرحلے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader