شتم رسول کا مسئلہ
Urdu book, p. 291
By Maulana Wahiduddin Khan
میں پہنچ کر لوگوں کو مشتعل کر دے گا اور پر امن احتجاج فوراً ہی پر تشدد احتجاج میں تبدیل ہو جائے گا۔ آغاز میں بظاہر وہ ایک پر امن احتجاج کی حیثیت سے شروع ہوگا، لیکن آخر میں وہ توڑ پھوڑ اور فساد اور تخریب کی شکل اختیار کرلے گا، جس کی ایک مثال پاکستان کے مذکورہ احتجاجی واقعے میں نظر آتی ہے۔ اگر بالفرض کوئی احتجاج واقعۃً پر امن احتجاج ہو، وہ اول سے آخر تک امن کی شرط پر قائم رہے، تب بھی عملاً وہ ایک فساد کی حیثیت رکھتا ہے، کیوں کہ اس کے نتیجے میں وہ سنگین برائی پیدا ہوتی ہے جس کو باہمی نفرت کہا جاتا ہے، اور نفرت بلاشبہ ایک منفعل تشدد (passive violence) ہے۔ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ تشدد اگر ایک بم ہے تو نفرت ایک ٹائم بم (time-bomb)۔ حبل اللہ، حبل الناس "شتم رسول" کے مسئلے پر ساری دنیا کے مسلمان پر شور احتجاج (protest) کر رہے ہیں۔ اس پر شور احتجاج کے جواز کے لیے مسلمان یہ کہتے ہیں کہ حقوقِ انسانی (human rights) کے مسلمہ اصول کے تحت احتجاج ہمارا ایک جائز حق ہے۔ سڑکوں پر احتجاجی جلوس نکالنا کوئی سادہ بات نہیں۔ گہرائی کے ساتھ غور کیجیے تو یہ ایک ایسا طریقہ ہے جس کو رسول اور اصحاب رسول نے کبھی اختیار نہیں کیا۔ مسلمان آج جس طرح کے واقعات پر جگہ جگہ احتجاجی جلوس نکالتے ہیں، اُس طرح کے ناخوش گوار واقعات خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زیادہ بڑے پیمانے پر موجود تھے۔ مثلاً مقدس کعبہ میں مشرکین کی طرف سے سیکڑوں کی تعداد میں بتوں کا نصب کیا جانا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھلے طور پر، نعوذ باللہ، مذمم اور مجنون کہنا، وغیرہ۔ مگر حدیث اور سیرت کی کتابوں سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اور اصحاب رسول نے کبھی اُس کے خلاف احتجاج کا طریقہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader