Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

حبل اللہ، حبل الناس

Urdu book, p. 292

By Maulana Wahiduddin Khan

اختیار نہیں کیا۔ رسول اور اصحاب رسول کے اس ثابت شدہ عمل سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ احتجاج کا طریقہ یقینی طور پر اسلام کا طریقہ نہیں۔ پھر احتجاج کا طریقہ موجودہ زمانے کے مسلمانوں کو کہاں سے ملا۔ یہ طریقہ انھوں نے حقوق انسانی کی جدید شریعت سے اخذ کیا ہے۔ یہ انسانی شریعت کی ایک دفعہ ہے جس کو 1948 میں اقوام متحدہ کے یونی ورسل ڈیکلیریشن (universal declaration) کے ذریعہ وضع کیا گیا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ زندگی کے دو طریقے ہیں ــــ ایک ہے، حبل اللہ کے تحت جینا، اور دوسرا ہے، حبل الناس کے تحت جینا (3:112)۔ حبل اللہ کے تحت زندگی کا حق ملنا کسی امت کی مطلوب حالت ہے، اور حبل الناس کے تحت زندگی کا حق ملنا سرتا سر غیر مطلوب حالت۔ قرآن میں حبل اللہ اور حبل الناس کے الفاظ کسی امت کی دو مختلف حالتوں کو بتانے کے لیے آئے ہیں۔ امت کی ایک حالت وہ ہے، جب کہ اس کے اندر خوف خدا کی روح موجود ہو اور وہ اپنے عمل کا نقشہ حبل اللہ، بالفاظ دیگر، خدائی تعلیمات (قرآن وسنت) سے اخذ کرے، اور حبل الناس کا مطلب یہ ہے کہ امت بے خوفی کی نفسیات میں مبتلا ہوگئی ہو اور اتباع شہوات (19:59) کی بنا پر وہ اپنے عمل کا نقشہ تعلیمات الہیٰ سے اخذ کرنے کے بجائے انسان کے وضع کردہ ضابطوں سے اخذ کرنے لگے۔ حبل اللہ اور حبل الناس کی اس قرآنی تقسیم کے مطابق دیکھیے تو معلوم ہوگا کہ موجودہ زمانے کے مسلمان خود اپنی زبان سے یہ اعلان کر رہے ہیں کہ اس معاملے میں وہ حبل اللہ پر قائم نہیں ہیں، بلکہ وہ حبل الناس پر قائم ہیں۔ وہ اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر اپنی احتجاجی روش کا جواز حبل اللہ میں نہ پا کر اس کو حبل الناس سے اخذ کر رہے ہیں۔ اور اپنے بگڑے ہوئے مزاج کی بنا پر اپنی غیر اسلامی روش کے لیے وہ حبل اللہ کے بجائے حبل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page