Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

سماجی جرم، اعتقادی جرم

Urdu book, p. 294

By Maulana Wahiduddin Khan

سماجی جرم، اعتقادی جرم پاکستان کے صوبہ پنجاب کے گورنر مسٹر سلمان تاثیر (عمر 66 سال) کو اسلام آباد میں 4 جنوری 2011 کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ اخباری اطلاع کے مطابق، ان کو گولی مارنے والا خود اُن کا باڈی گارڈ ممتاز حسین قادری (عمر 26 سال) تھا۔ اس نے گورنر کے اوپر سرکاری گن سے فائرنگ کی۔ اس حملے میں گورنر پنجاب کو 6 گولیاں لگیں۔ وہ فوراً ہی ہلاک ہو گئے۔ پولیس نے قاتل کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قاتل کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے ہے۔ حراست میں لیے گئے ملزم نے اعتراف کیا ہے کہ اُس نے یہ حملہ اس لیے کیا کہ گورنر پنجاب نے پاکستان کے ناموس رسالت قانون کو ایک کالا قانون کہا تھا۔ (روزنامہ راشٹریہ سہارا، نئی دہلی، 5 جنوری، صفحہ 12 ؛ ٹائمس آف انڈیا، نئی دہلی، 5 جنوری 2011، صفحہ 1) اس طرح کسی فرد کا کسی شخص کو گولی مار کر ہلاک کرنا بلا شبہ اسلام میں حرام ہے۔ پہلی بات یہ ہے کہ ناموس رسالت کا قانون ایک بے بنیاد قانون ہے۔ اگر کوئی شخص پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف وہ فعل کرے جس کو سب وشتم کہا جاتا ہے، تب بھی اس کا جواب دلیل سے دیا جائے گا، نہ کہ گولی سے۔ بالفرض اگر ایسا کوئی قانون ہو، تب بھی شاتم کے خلاف کوئی عام آدمی کارروائی نہیں کر سکتا۔ وہ صرف یہ کر سکتا ہے کہ وہ ایسے شاتم کے معاملے میں عدالت سے رجوع کرے اور پھر باقاعدہ عدالتی کارروائی کے بعد عدالت جو فیصلہ کرے، اس کے مطابق، اس پر عمل کیا جائے۔ موجودہ زمانے کے مسلمان ہر جگہ شتم رسول (blasphemy) کے نام پر اسی قسم کے رد عمل کا مظاہرہ کر رہے ہیں، کہیں جلوس اور مظاہرے کی صورت میں اور کہیں شاتم کو قتل کرنے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page