شتم رسول کا مسئلہ
Urdu book, p. 295
By Maulana Wahiduddin Khan
کی صورت میں۔ اس کے نتیجے میں مفروضہ شتم تو بند نہیں ہوا، البتہ اسلام بہت زیادہ بدنام ہو گیا۔ جو لوگ کسی کو شاتم رسول قرار دے کر اُس کے خلاف کاروائی کرتے ہیں، وہ خود شاتم سے بھی زیادہ بڑے مجرم ہیں۔ ایسے لوگ کسی بھی حال میں خدا کی پکڑ سے بچ نہیں سکتے۔ سزا کا تعلق خدا سے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن میں داعی الی اللہ (46:3) کہا گیا ہے۔ اس دعوتی مشن کو انجام دینے کے لیے آپ کو قرآن میں جو ہدایت دی گئیں، اُن میں سے ایک ہدایت کو قرآن میں اِن الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ. إِنَّا كَفَيْنَاكَ الْمُسْتَهْزِئِينَ (15:94-95)۔ یعنی جس چیز کا تم کو حکم ملا ہے، اس کو تم واضح طور پر لوگوں کے سامنے بیان کردو، اور مشرکوں سے اعراض کرو۔ ہم تمھاری طرف سے ان استہزا کرنے والوں کے لیے کافی ہیں۔ اِن آیات کو اس کے سبب نزول کے اعتبار سے دیکھیے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ داعی کو اپنی ساری توجہ دعوت کے کام میں لگانا چاہیے۔ اس کے بعد اگر ایسا ہوتا ہے کہ مدعو گروہ کی طرف سے منفی رد عمل سامنے آتا ہے، وہ داعی کا مذاق اُڑاتے ہیں، وہ داعی کا سب وشتم کرتے ہیں، وہ داعی کو لوگوں کی نظر میں گھٹانے کے لیے توہین و استہزا کے الفاظ استعمال کرتے ہیں، تو ایسی حالت میں داعی کو چاہیے کہ وہ رد عمل کی نفسیات سے بچتے ہوئے یک طرفہ اعراض کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ اپنی دعوت کو مزید مدلل کرنے کی کوشش کرے، حتیٰ کہ وہ ایسے لوگوں کی اصلاح کے لیے اپنے رب سے دعا کرے ۔ وہ کہے کہ خدایا، تو ان مخالفین کو میرا ساتھی بنادے، تو ان کو اپنی رحمت کے سائے میں لے لے۔ اس کے بعد جہاں تک استہزا کرنے والوں کے استہزا کا معاملہ ہے، وہ اس کو پوری طرح خدا پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader