Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

شتم رسول کا مسئلہ

Urdu book, p. 296

By Maulana Wahiduddin Khan

چھوڑ دے۔ داعی کا کام صرف پر امن دعوت ہے، اس کا کام لوگوں کو سزا دینا نہیں۔ (22-88:21)۔ سب وشتم کی حیثیت دراصل آزادی کے غلط استعمال کی ہے۔ سب وشتم کی حیثیت جرم مستوجب سزا (cognizable offense) کی نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شاتم کو پرامن نصیحت کی جائے گی، اُس کو مجرم قرار دے کر اس کو جسمانی سزا نہیں دی جائے گی۔ اس معاملے میں نصیحت کا تعلق داعی سے ہے اور سزا کا تعلق خدا سے۔ داعی اگر شاتم کو سزا دینے کی کوشش کرے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ خدا کے کام کو اپنے ہاتھ میں لے لینا چاہتا ہے، اور ایسا کرنا بلاشبہ ایک سنگین جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ عفوودرگزر کا حکم قرآن کی سورہ الجاثیہ میں ایک آیت آئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: قُلْ لِلَّذِينَ آمَنُوا يَغْفِرُوا لِلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ أَيَّامَ اللَّهِ لِيَجْزِيَ قَوْماً بِمَا كَانُوا يَكْسِبُونَ (45:14)۔ یعنی ایمان والوں سے کہہ دو کہ وہ اُن لوگوں کے ساتھ عفوودرگزر کا معاملہ کریں جو ایام اللہ کے ظہور کی توقع نہیں رکھتے، تا کہ اللہ ایک قوم کو اُس چیز کا پورا بدلہ دے جو وہ کرتی رہی ہے۔ قرآن کی اس آیت کی تشریح میں مفسر القرطبی نے لکھا ہے: نَزَلَتِ الْآيَةُ بِسَبَبِ أَنَّ رَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ شَتَمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَهَمَّ أَنْ يَنْبَطِشَ بِهِ (تفسیر القرطبی، جلد 16، صفحہ 161)۔ یعنی یہ آیت اس واقعے کے بعد اتری کہ قریش کے ایک آدمی نے عمر بن الخطاب کا سب وشتم کیا۔ عمر نے چاہا کہ وہ اس کو پکڑیں اور ماریں۔ اس موقع پر قرآن میں یہ ہدایت اتری۔ قرآن کی اس آیت سے اور اس قسم کی دوسری آیتوں سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page