Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

شتم رسول کا مسئلہ

Urdu book, p. 297

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے، وہ یہ کہ سب وشتم کا معاملہ قانونی سزا (legal punishment) کا معاملہ نہیں ہے۔ کوئی شخص نعوذ باللہ، خدا کا استہزاء کرے، وہ صحابہ کا استہزاء کرے، وہ قرآن کا استہزاء کرے، تو اس بنیاد پر اُس کو قانونی مجرم قرار دے کر قانونی سزا نہیں دی جائے گی۔ اِس معاملے میں سزا کا تعلق تمام تر اللہ سے ہے۔ اللہ اپنے علم کے مطابق، ایسے لوگوں کو جو سزا دینا چاہے گا، وہ سزا دے گا۔ ایسے معاملے میں کسی شخص کو سزا دینا اسلام کی حمایت کے نام پر اسلام کے ساتھ بدترین عداوت کے ہم معنی ہے۔ سب وشتم کے معاملے میں مسلمانوں کو جو کرنا ہے، وہ یہ کہ وہ ایسے شخص کے لیے دعا کریں، وہ اُس سے مل کر اُس کو نصیحت کریں، وہ اس کو دلائل کے ذریعے مطمئن کرنے کی کوشش کریں، وہ اس کی اصلاح کی پرامن جدوجہد کریں، وہ اس کو جسمانی سزا دینے کا کام اپنے ذمے نہ لیں۔ مومن کی حیثیت اس دنیا میں داعی کی ہے، نہ کہ داروغہ (الغاشیہ، 22-21: 88)۔ شتم اور ارتداد عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام میں شتم رسول کی سزا قتل ہے۔ اسی طرح یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام میں ارتداد (apostasy) کی سزا قتل ہے۔ شتم اور ارتداد کی اس سزا کو حد (legal punishment) کا درجہ دیا جاتا ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ شاتم یا مرتد کو بطور حد قتل کیا جائے گا (یُقتل حَدًّا)۔ یہ قانون اسلام کے بعد کی تاریخ میں عباسی دور (1258-750ء) کے فقہاء نے بنایا، مگر اصل اسلامی ماخذ میں اس قسم کا کوئی حکم موجود نہیں۔ اس لیے عین جائز ہے کہ اس حکم کو کالعدم سمجھا جائے اور اس کو غیر اسلامی قرار دے کر رد کر دیا جائے۔ اسلامی تاریخ کے مکی دور میں جو اہل ایمان ہجرت کر کے حبش (Abyssinia) گئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page