Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

شتم اور ارتداد

Urdu book, p. 298

By Maulana Wahiduddin Khan

تھے، اُن میں سے ایک شخص کا نام عبید اللہ بن جحش تھا۔ حبش ایک عیسائی ملک تھا۔ وہاں جا کر عبید اللہ بن جحش عیسائی مذہب سے متاثر ہوئے اور اعلان کے ساتھ اسلام کو چھوڑ دیا۔ یہ واضح طور پر ارتداد کا ایک واقعہ تھا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ عبید اللہ بن جحش مرتد ہوگئے ہیں ، اُن کو بطور حد قتل کردو۔ اِس واقعے سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ شریعتِ محمدی میں ارتداد کی سزا قتل نہیں ہے۔ اسی طرح مدینہ میں ایک شخص تھا۔ اس کا نام عبد اللہ بن ابی تھا۔ یہ شخص کھلے طور پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شتم کرتا تھا، لیکن رسول اللہ نے کبھی یہ نہیں فرمایا کہ عبد اللہ بن ابی نے شتم رسول کے جرم کا ارتکاب کیا ہے ، اس لیے اس کو بطور حد قتل کر دو ۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں سماجی جرم (crime اور نظریاتی جرم (ideological crime) کا تصور نہیں ہے، پر سزا ہے، اسلام میں (social نہیں، شاتم امت کے مابلہ بلک اعتقادی جرم (ideological crime) پر کوئی سزا نہیں۔ شاتم اور مرتد کے لیے تبلیغ نصیحت ہے، نہ کہ قتل کا حکم۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page