Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

تاریخ کا سبق

Urdu book, p. 299

By Maulana Wahiduddin Khan

تاریخ کا سبق نورالدین زنگی (وفات 1174ء) مصر کے سلطان تھے۔ صلاح الدین ایوبی (وفات 1193ء) اُن کے ایک فوجی افسر تھے۔ سلطان نورالدین زنگی کے انتقال کے بعد اگرچہ اُن کے بیٹے موجود تھے، لیکن صلاح الدین ایوبی نے حکومت پر قبضہ کر کے سلطان کا منصب حاصل کرلیا۔ تیسری صلیبی جنگ (Crusade) میں، جس کا زمانہ 1192-1189 عیسوی ہے، صلاح الدین ایوبی نے فاتحانہ رول ادا کیا تھا۔ اِس زمانے کا ایک واقعہ یہ ہے کہ ایک مسیحی جنرل ریجی نالڈ (Reginald of Chatton) نے 1182 عیسوی میں ایک مسلم قافلے پر حملہ کرکے اس کو زیر کرلیا۔ بتایا جاتا ہے کہ اُس وقت ریجی نالڈ نے مسلمانوں کو خطاب کرتے ہوئے کہا: اَيْنَ مُحَمَّدُكُمْ لِيُنْقِذْكُمْ (النوادر السلطانية للقاضی ابن شدّاد، صفحہ 64)۔ یعنی تمھارے محمد کہاں ہیں کہ وہ تم کو بچائیں۔ بعد کو حطّین کی جنگ (1187ء) میں ریجی نالڈ کو صلاح الدین ایوبی کے مقابلے میں شکست ہوئی ۔ ریجی نالڈ گرفتار ہو کر صلاح الدین کے کیمپ میں لایا گیا۔ اُس وقت صلاح الدین ایوبی نے ریجی نالڈ کو اُس کا قول یاد دلایا اور یہ کہہ کر اْس کو اپنی تلوار سے قتل کر دیا: ہَا أَنَا أَنْتَصِرُ لِمُحَمَّدٍ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ (النوادر السلطانية، صفحہ (64)۔ یعنی یہ لو، میں محمد علیہ الصلاۃ والسلام کا انتقام لیتا ہوں۔ مسلم مورخین اِس واقعے کو سلطان صلاح الدین ایوبی کی دینی حمیت اور اُس کی قوتِ ایمانی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ صحیح اسلامی شعور کے فقدان کا نتیجہ ہے۔ یہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page