Urdu book · شتم رسول کا مسئلہ

تاریخ کا سبق

Urdu book, p. 300

By Maulana Wahiduddin Khan

موقع تھا، جب کہ صلاح الدین اور دوسرے مسلمان رچی نالڈ کے سامنے اس بات کی گواہی دیتے کہ ہمارے دین کے معاملے میں تم غلط فہمی کا شکار ہو۔ تم سمجھتے ہو کہ ہم، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا مشکل کشا سمجھتے ہیں، حالاں کہ ہم، محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو صرف اپنا ہادی اور پیغمبر سمجھتے ہیں۔ ہمارے عقیدے کے مطابق، مشکل کشائی کا اختیار صرف اللہ رب العالمین کو ہے، نہ کہ محمد یا کسی اور شخصیت کو۔ پیغمبرانہ اسوہ کے مطابق، یہ وقت رچی نالڈ کے سامنے حق کی گواہی دینے کا تھا، نہ کہ تلوار مار کر اس کو قتل کرنے کا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے جو کچھ کیا، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، قومی حمیت یا شخصی حمیت کا معاملہ تھا، مگر قومی حمیت یا شخصی حمیت کا طریقہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ نہیں۔ رسول اللہ کا طریقہ حمیتِ خداوندی کا طریقہ ہے، نہ کہ قومی حمیت یا شخصی حمیت کا طریقہ۔ اس حمیتِ خداوندی کی ایک مثال یہ ہے کہ ہجرت (622ء) کے سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکر صدیق دشمنوں کی نظر سے بچنے کے لیے غارِ ثور میں پناہ لیے ہوئے تھے۔ مگر دشمن آپ کو تلاش کرتے ہوئے غارِ ثور کے دہانے تک پہنچ گئے۔ حضرت ابوبکر نے دیکھا کہ وہ لوگ تلواریں لیے ہوئے غارِ ثور کے باہر کھڑے ہیں۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جواب دیا تھا، وہ قرآن میں ان الفاظ میں نقل ہوا ہے: لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا (9:40) ۔ یعنی تم غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کے معاملے میں مومن کا احساس کیا ہونا چاہیے ۔ اس طرح کے معاملے میں مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے عجز کے مقابلے میں اللہ کی قدرت کو دریافت کرے۔ وہ یہ یقین کرے کہ سارا اختیار اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اللہ دینے والا ہے، اور اللہ چھینے والا۔ عزت بھی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page